50. Qaafق
The letter Qaaf · Meccan · 45 ayahs · 3 rukus · مولانا عبد الماجد دریابادی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
قٓ١ۚ۫ وَ الْقُرْاٰنِ الْمَجِیْدِۚ﴿1﴾
قاف۔ قسم ہے قرآن بزرگ کیبَلْ عَجِبُوْۤا اَنْ جَآءَهُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْهُمْ فَقَالَ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا شَیْءٌ عَجِیْبٌۚ﴿2﴾
کہ ہم نے آپ کو نذیر بنا کر بھیجا ہے) لیکن یہ لوگ اس پر حیرت کررہے ہیں کہ ان کے پاس ایک ڈرانے والا نہیں میں سے آیا۔ سو کافر کہتے ہیں کہ یہ تو (بڑی) عجیب بات ہےءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا١ۚ ذٰلِكَ رَجْعٌۢ بَعِیْدٌ﴿3﴾
بھلا جب ہم مرگئے اور مٹی ہوگئے (تو کیا دوبارہ زندہ ہوں گے ؟) یہ رجعت تو (بہت ہی) بعید ہے۔قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنْقُصُ الْاَرْضُ مِنْهُمْ١ۚ وَ عِنْدَنَا كِتٰبٌ حَفِیْظٌ﴿4﴾
لیکن ہم تو ان کے اجزاء تک کو جانتے ہیں جنہیں زمین (کی مٹی) کم کرتی ہے اور ہمارے پاس تو (پورا) رجسٹر (ہی) محفوظ ہے۔بَلْ كَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ فَهُمْ فِیْۤ اَمْرٍ مَّرِیْجٍ﴿5﴾
اصل یہ ہے کہ یہ لوگ تو سچ ہی کو جھٹلاتے ہیں جب وہ ان کے پاس آگیا غرض یہ کہ وہ ایک متزلزل حالت میں ہیں۔۔اَفَلَمْ یَنْظُرُوْۤا اِلَى السَّمَآءِ فَوْقَهُمْ كَیْفَ بَنَیْنٰهَا وَ زَیَّنّٰهَا وَ مَا لَهَا مِنْ فُرُوْجٍ﴿6﴾
کیا انہوں نے اپنے اوپر آسمان کی طرف نہیں دیکھا کہ ہم نے اسے کیسا بنایا اور ہم نے اسے آراستہ کیا اور اس میں کوئی رخنہ (تک) نہیں۔وَ الْاَرْضَ مَدَدْنٰهَا وَ اَلْقَیْنَا فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍۭ بَهِیْجٍۙ﴿7﴾
اور زمین کو ہم نے پھیلا یا اور اس میں پہاڑوں کو جما دیا اور اس میں ہر قسم کی خوشنماچیزیں اگائیںتَبْصِرَةً وَّ ذِكْرٰى لِكُلِّ عَبْدٍ مُّنِیْبٍ﴿8﴾
جو ذریعہ ہے بینائی اور دانائی کا ہر رجوع ہونے والے بندے کیلئے۔وَ نَزَّلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً مُّبٰرَكًا فَاَنْۢبَتْنَا بِهٖ جَنّٰتٍ وَّ حَبَّ الْحَصِیْدِۙ﴿9﴾
اور ہم نے آسمان سے برکت والا پانی برسایا پھر ہم نے اس سے باغ اور کھیتی کا غلہوَ النَّخْلَ بٰسِقٰتٍ لَّهَا طَلْعٌ نَّضِیْدٌۙ﴿10﴾
اور لمبی لمبی کھجور کے درخت جن کے گچھے خوب گندھے ہوئے رہتے ہیںرِّزْقًا لِّلْعِبَادِ١ۙ وَ اَحْیَیْنَا بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًا١ؕ كَذٰلِكَ الْخُرُوْجُ﴿11﴾
اگائے بندوں کو روزی دینے کے لئے اور ہم نے اس کے ذریعہ سے مردہ زمین کو زندہ کیا اسی طرح (زمین سے حشر میں) نکلنا ہی ہوگا۔كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ اَصْحٰبُ الرَّسِّ وَ ثَمُوْدُۙ﴿12﴾
ان لوگوں کے قبل قوم نوح اور اہل رس اور ثمودوَ عَادٌ وَّ فِرْعَوْنُ وَ اِخْوَانُ لُوْطٍۙ﴿13﴾
اور عاد اور فرعون اور لوط والےوَّ اَصْحٰبُ الْاَیْكَةِ وَ قَوْمُ تُبَّعٍ١ؕ كُلٌّ كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِیْدِ﴿14﴾
اور اہل ایکہ اور قوم تبع سب ہی تکذیب پیغمبروں کی کرچکے ہیں سو میری وعید پوری اتری۔اَفَعَیِیْنَا بِالْخَلْقِ الْاَوَّلِ١ؕ بَلْ هُمْ فِیْ لَبْسٍ مِّنْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ۠ع﴿15﴾
تو کیا ہم پہلی بار کی پیدائش سے تھک چکے ہیں ؟ اصل یہ ہے کہ یہ لوگ از سر نو پیدائش ہی کی طرف سے شبہ میں پڑے ہیں۔وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ وَ نَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهٖ نَفْسُهٗ١ۖۚ وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ﴿16﴾
اور ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے اور ہم (خوب) جانتے ہیں ان وسوسوں (تک) کو جو اس کے جی میں آتے رہتے ہیں ہم تو اس کی رگ گردن سے بھی بڑھ کر اس کے قریب ہیں۔اِذْ یَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّیٰنِ عَنِ الْیَمِیْنِ وَ عَنِ الشِّمَالِ قَعِیْدٌ﴿17﴾
) انہیں اس وقت کی یاد دلائیے) جب دو گرفت میں لینے والے فرشتے داہنے اور بائیں بیٹھنے والے گرفت میں لاتے رہتے ہیں۔مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیْهِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ﴿18﴾
وہ کوئی لفظ منہ سے نہیں نکالنے پاتا مگر یہ کہ اس کے آس پاس ہی ایک تاک میں لگا رہنے والا تیار ہے۔وَ جَآءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ١ؕ ذٰلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِیْدُ﴿19﴾
اور آپہنچی موت کی بےہوشی سچائی کے ساتھ۔ یہی وہ (حقیقت) ہے جس سے تو بدکتا رہتا ہے۔وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمُ الْوَعِیْدِ﴿20﴾
اور صور پھونکا جائے گا یہی دن ہے وعید کا۔وَ جَآءَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّعَهَا سَآئِقٌ وَّ شَهِیْدٌ﴿21﴾
اور ہر شخص اس طرح آئے گا کہ ایک (فرشتہ) تو اس کے ساتھ ہمراہ لانے والا ہوگا اور ایک (فرشتہ) گواہ ہوگا۔لَقَدْ كُنْتَ فِیْ غَفْلَةٍ مِّنْ هٰذَا فَكَشَفْنَا عَنْكَ غِطَآءَكَ فَبَصَرُكَ الْیَوْمَ حَدِیْدٌ﴿22﴾
تو اسی دن سے بیخبر تھا سو ہم نے تجھ پر سے تیرا پردہ ہٹا دیا سو آج تیری نگاہ بڑی تیز ہے۔وَ قَالَ قَرِیْنُهٗ هٰذَا مَا لَدَیَّ عَتِیْدٌؕ﴿23﴾
اور اس کے ساتھ والا (فرشتہ) کہے گا کہ یہ وہ (روزنامچہ) ہے جو میرے پاس تیار ہے۔اَلْقِیَا فِیْ جَهَنَّمَ كُلَّ كَفَّارٍ عَنِیْدٍۙ﴿24﴾
ڈال دو تم دونوں جہنم میں ہر ایسے شخص کو جو کفر کرنے والا ہو ضد رکھنے ولا ہومَّنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ مُّرِیْبِۙ﴿25﴾
نیک کام سے روکنے والا ہو حد سے نکل جانے والا ہواِ۟لَّذِیْ جَعَلَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَاَلْقِیٰهُ فِی الْعَذَابِ الشَّدِیْدِ﴿26﴾
شبہ رکھنے والا ہو جس نے اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا تجویز کر رکھا ہو سو ایسے کو تم دونوں عذاب سخت میں ڈال دو۔قَالَ قَرِیْنُهٗ رَبَّنَا مَاۤ اَطْغَیْتُهٗ وَ لٰكِنْ كَانَ فِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ﴿27﴾
) تب) اس کے ساتھ والا (شیطان) کہے گا اے ہمارے پروردگار میں نے اسے نہیں بھٹکایا تھا بلکہ یہ خود ہی دور دراز کی گمراہی میں تھا۔قَالَ لَا تَخْتَصِمُوْا لَدَیَّ وَ قَدْ قَدَّمْتُ اِلَیْكُمْ بِالْوَعِیْدِ﴿28﴾
ارشاد ہوگا کہ میرے سامنے جھگڑو مت اور میں تو پہلے ہی تمہارے پاس بھیج چکا تھا۔مَا یُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَیَّ وَ مَاۤ اَنَا بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ۠ع﴿29﴾
سو میرے ہاں بات نہیں بدلی جائے گی اور نہ میں بندوں پر ظلم کرنے والا ہوں۔یَوْمَ نَقُوْلُ لِجَهَنَّمَ هَلِ امْتَلَاْتِ وَ تَقُوْلُ هَلْ مِنْ مَّزِیْدٍ﴿30﴾
) اور انہیں یاد دلائیے) وہ دن جب ہم دوزخ سے کہیں گے کہ تو بھر بھی گئی ؟ اور وہ کہے گی کہ کچھ اور بھی ہے ؟۔وَ اُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِیْنَ غَیْرَ بَعِیْدٍ﴿31﴾
اور جنت متقیوں کے قریب لائی جائے گی کہ کچھ دور نہ رہے گیهٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِكُلِّ اَوَّابٍ حَفِیْظٍۚ﴿32﴾
یہی وہ چیز ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا کہ وہ ہر رجوع ہوجانے والے پابندی رکھنے والے کے لئے ہے۔مَنْ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ وَ جَآءَ بِقَلْبٍ مُّنِیْبِۙ﴿33﴾
(غرض) جو کوئی بھی (خدائے) رحمن سے بےدیکھے ڈرتا ہوگا اور رجوع ہونے والا دل لے کر آئے گااِ۟دْخُلُوْهَا بِسَلٰمٍ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمُ الْخُلُوْدِ﴿34﴾
) اس کو حکم ہوگا کہ) داخل ہوجاؤ اس جنت میں سلامتی کے ساتھ یہ دن ہمیشگی کا ہے۔لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ فِیْهَا وَ لَدَیْنَا مَزِیْدٌ﴿35﴾
ان لوگوں کو وہاں سب کچھ ملے گا جو وہ چاہیں گے اور ہمارے پاس اور بھی زائد ہےوَ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ هُمْ اَشَدُّ مِنْهُمْ بَطْشًا فَنَقَّبُوْا فِی الْبِلَادِ١ؕ هَلْ مِنْ مَّحِیْصٍ﴿36﴾
اور ہم ان قبل بہت سی امتوں کو ہلاک کرچکے ہیں جو قوت میں ان سے کہیں بڑھ کر تھے اور (تمام) شہروں کو چھانتے پھرتے تھے (سو) انہیں کہیں بھاگنے کی جگہ بھی ملی ؟اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰى لِمَنْ كَانَ لَهٗ قَلْبٌ اَوْ اَلْقَى السَّمْعَ وَ هُوَ شَهِیْدٌ﴿37﴾
اس (اہلکا) میں اس کے لئے بڑی عبرت ہے جس کے پاس دل ہے یا وہ متوجہ ہو کان ہی لگا دیتا ہے۔وَ لَقَدْ خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ١ۖۗ وَّ مَا مَسَّنَا مِنْ لُّغُوْبٍ﴿38﴾
اور ہم نے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کو چھ دن میں پید کردیا اور ہم کو تکان نے چھوا تک نہیں۔فَاصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ الْغُرُوْبِۚ﴿39﴾
سو آپ ان کی باتوں پر صبر ہی کیجئے اور اپنے پروردگار کی حمد وتسبیح کرتے رہئے آفتاب نکلنے سے پہلے اور (اس کے) چھپنے سے پہلے بھی۔وَ مِنَ الَّیْلِ فَسَبِّحْهُ وَ اَدْبَارَ السُّجُوْدِ﴿40﴾
اور رات میں بھی اس کی تسبیح کیجئے اور نمازوں کے بعد بھی۔وَ اسْتَمِعْ یَوْمَ یُنَادِ الْمُنَادِ مِنْ مَّكَانٍ قَرِیْبٍۙ﴿41﴾
اور سن رکھ (اے مخاطب) کہ جس دن ایک پکارنے والا پاس ہی سے پکارے گایَّوْمَ یَسْمَعُوْنَ الصَّیْحَةَ بِالْحَقِّ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمُ الْخُرُوْجِ﴿42﴾
جس دن اس چیخ کو بالیقین (سب) سن لیں گے وہ نکلنے کا دن ہوگا (قبروں سے)۔اِنَّا نَحْنُ نُحْیٖ وَ نُمِیْتُ وَ اِلَیْنَا الْمَصِیْرُۙ﴿43﴾
بیشک ہم ہی جلاتے ہیں اور ہم ہی مارتے ہیں اور ہماری ہی طرف باز گشت ہے۔یَوْمَ تَشَقَّقُ الْاَرْضُ عَنْهُمْ سِرَاعًا١ؕ ذٰلِكَ حَشْرٌ عَلَیْنَا یَسِیْرٌ﴿44﴾
جس روز زمین ان پر سے کھل جائے گی جبکہ وہ دوڑتے ہوں گے یہ جمع کرلینا ہمارے لئے آسان ہےنَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَقُوْلُوْنَ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِجَبَّارٍ١۫ فَذَكِّرْ بِالْقُرْاٰنِ مَنْ یَّخَافُ وَعِیْدِ۠ع﴿45﴾
ہم خوب جانتے ہیں جو کچھ یہ کہہ رہے ہیں اور آپ ان پر جبر کرنے والے (بنا کر) نہیں (بھیجے گئے) ہیں سو آپ قرآن کے ذریعہ سے نصیحت کرتے رہئے اسے جو میری وعید سے ڈرتا ہو۔