47. Muhammadمحمد
Muhammad · Medinan · 38 ayahs · 4 rukus · مولانا عبد الماجد دریابادی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَضَلَّ اَعْمَالَهُمْ﴿1﴾
جو لوگ کافر ہوئے اور اللہ کے راستہ سے روکا بھی (اللہ نے) ان کے اعمال کالعدم کردئے۔وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اٰمَنُوْا بِمَا نُزِّلَ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّ هُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ۙ كَفَّرَ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ اَصْلَحَ بَالَهُمْ﴿2﴾
اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل بھی کئے اور اسی (سب) پر ایمان لائے جو محمد ﷺ پر نازل کیا گیا اور وہ امر حق ان کے پروردگار کی طرف سے ہے اللہ ان کے گناہوں کا کفارہ ان کی طرف سے کردے گا اور ان کی حالت درست رکھے گا۔ذٰلِكَ بِاَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوا اتَّبَعُوا الْبَاطِلَ وَ اَنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّبَعُوا الْحَقَّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ؕ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ لِلنَّاسِ اَمْثَالَهُمْ﴿3﴾
یہ اس لئے ہے کہ کافروں نے تو باطل کی پیروی کی اور ایمان والوں نے اپنے پروردگار کی طرف سے آئے ہوئے حق کو اختیار کیا اللہ اسی طرح لوگوں کیلئے ان کے حالات بیان کرتا ہے۔فَاِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَضَرْبَ الرِّقَابِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَثْخَنْتُمُوْهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ١ۙۗ فَاِمَّا مَنًّۢا بَعْدُ وَ اِمَّا فِدَآءً حَتّٰى تَضَعَ الْحَرْبُ اَوْزَارَهَا١ۛ۫ۚ۬ ذٰؔلِكَ١ۛؕ وَ لَوْ یَشَآءُ اللّٰهُ لَانْتَصَرَ مِنْهُمْ وَ لٰكِنْ لِّیَبْلُوَاۡ بَعْضَكُمْ بِبَعْضٍ١ؕ وَ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَلَنْ یُّضِلَّ اَعْمَالَهُمْ﴿4﴾
سو جب تمہارے مقابلہ کافروں سے ہوجائے تو (ان کی) گردنیں مار چلو یہاں تک کہ جب ان کی خوب خونریزی کرچکو تو خوب مضبوط باندھ لو۔ پھر اس کے بعد یا محض احسان رکھ کر (چھوڑ دو) یا معاوضہ لے کر (چھوڑ دو) تاآنکہ لڑائی اپنے ہتھیار رکھ دے (یہ حکم) اسی طرح ہے۔ اور اگر اللہ کی مشیت ہوئی تو ان سے انتقام لے لیتا لیکن (حکم اس لئے دیا) تاکہ تم میں سے ایک کا دوسرے کے ذریعہ سے امتحان کرے۔ اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جاتے ہیں اللہ ان کے اعمال کو ہرگز ضائع نہ کرے گا۔سَیَهْدِیْهِمْ وَ یُصْلِحُ بَالَهُمْۚ﴿5﴾
اللہ انہیں سنبھالے رہے گا اور ان کی حالت درست رکھے گاوَ یُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ﴿6﴾
اور انہیں جنت میں داخل کرے گا جس کی انہیں (خوب) پہنچان کرا دے گا۔یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰهَ یَنْصُرْكُمْ وَ یُثَبِّتْ اَقْدَامَكُمْ﴿7﴾
اے ایمان والو اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم جمائے گا۔وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَتَعْسًا لَّهُمْ وَ اَضَلَّ اَعْمَالَهُمْ﴿8﴾
اور جو لوگ کافر ہیں ان کے لئے بربادی ہے اور (اللہ) ان کے اعمال کالعدم کردے گا۔ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَرِهُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَهُمْ﴿9﴾
یہ اس سبب سے کہ انہوں نے اللہ کے اتارے ہوئے (احکام) کو ناگوار جانا اس نے ان کے اعمال کو اکارت کردیا۔اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ دَمَّرَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ١٘ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ اَمْثَالُهَا﴿10﴾
کیا یہ لوگ زمین پر چلے پھرے نہیں جو یہ دیکھتے کہ جو لوگ ان سے پہلے ہوگزرے ہیں ان کا کیا انجام ہوا اللہ نے انہیں ہلاک کرمارا اور (ان) کافروں کے لئے بھی ایسے ہی (معاملات) ہونے کو ہیں۔ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ مَوْلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ اَنَّ الْكٰفِرِیْنَ لَا مَوْلٰى لَهُمْ۠ع﴿11﴾
یہ اسی سبب سے کہ اللہ ایمان والوں کا کارساز ہے اور کافروں کا کوئی کار ساز نہیں۔اِنَّ اللّٰهَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یَتَمَتَّعُوْنَ وَ یَاْكُلُوْنَ كَمَا تَاْكُلُ الْاَنْعَامُ وَ النَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ﴿12﴾
بیشک اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کئے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے ندیاں پڑی بہ رہی ہوں گی اور جو کافر ہیں وہ عیش کررہے ہیں اور کھا (پی) رہے ہیں جس طرح چوپائے کھاتے (پیتے) ہیں آگ ہی ان کا ٹھکانا ہے۔وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ هِیَ اَشَدُّ قُوَّةً مِّنْ قَرْیَتِكَ الَّتِیْۤ اَخْرَجَتْكَ١ۚ اَهْلَكْنٰهُمْ فَلَا نَاصِرَ لَهُمْ﴿13﴾
اور کتنی ہی بستیاں ایسی تھیں جو قوت میں آپ کی اس بستی سے بڑھی ہوئی تھیں جس کے رہنے والوں نے آپ کو (وہاں سے) نکالا ہم نے انہیں ہلاک کردیا اور کوئی ان کا مددگار نہ ہوا۔۔اَفَمَنْ كَانَ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ كَمَنْ زُیِّنَ لَهٗ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ﴿14﴾
تو کیا جو لوگ اپنے پروردگار کی طرف سے واضح دلیل پر ہیں وہ ان لوگوں کی طرح ہوجائیں گے جن کی بد عملی ان کی نگاہ میں خوش نما کردی گئی ہے اور وہ اپنی نفسانی خواہشوں پر چل رہے ہیں۔مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ فِیْهَاۤ اَنْهٰرٌ مِّنْ مَّآءٍ غَیْرِ اٰسِنٍ١ۚ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ لَّبَنٍ لَّمْ یَتَغَیَّرْ طَعْمُهٗ١ۚ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّةٍ لِّلشّٰرِبِیْنَ١ۚ۬ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّى١ؕ وَ لَهُمْ فِیْهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ وَ مَغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ١ؕ كَمَنْ هُوَ خَالِدٌ فِی النَّارِ وَ سُقُوْا مَآءً حَمِیْمًا فَقَطَّعَ اَمْعَآءَهُمْ﴿15﴾
جس جنت کا متقیوں سے وعدہ کیا جاتا ہے اس کی کیفیت یہ ہے کہ اس میں نہریں متغیر نہ ہونے والے پانی کی ہوں گی اور نہریں ذائقہ نہ بدلنے والے دودھ کی ہوں گی اور نہریں پینے والوں کے لئے خوش ذائقہ شراب کی ہوں گی اور نہریں شہد صاف کی ہوں گی اور وہاں ان کے لئے ہر قسم کے پھل ہوں گے اور ان کے پروردگار کی طرف سے بخشش ہوگی۔ (تو کیا ایسے لوگ) ان لوگوں جیسے ہوسکتے ہیں جو ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے اور کھولتا ہوا پانی نہیں پہنے کو دی جائے گا وہ ان کی انتڑیوں کو ٹکڑے ٹکڑے کرڈالے گاوَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُ اِلَیْكَ١ۚ حَتّٰۤى اِذَا خَرَجُوْا مِنْ عِنْدِكَ قَالُوْا لِلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مَا ذَا قَالَ اٰنِفًا١۫ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ﴿16﴾
اور لوگوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو ان کی طرف کان لگاتے ہیں یہاں کہ جب آپ کے پاس سے باہر جاتے ہیں تو جو صاحب علم ہیں ان سے پوچھتے ہیں کہ ابھی انہوں نے کیا کہا تھا یہی لوگ ہیں کہ اللہ نے انکے دلوں پر مہر کردی ہے اور وہ اپنی نفسانی خواہشوں پر چل رہے ہیں۔وَ الَّذِیْنَ اهْتَدَوْا زَادَهُمْ هُدًى وَّ اٰتٰىهُمْ تَقْوٰىهُمْ﴿17﴾
اور جو لوگ راہ پر ہیں اللہ انہیں اور زیادہ ہدایت دیتا ہے اور انہیں تقوی کی توفیق دیتا ہے۔فَهَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا السَّاعَةَ اَنْ تَاْتِیَهُمْ بَغْتَةً١ۚ فَقَدْ جَآءَ اَشْرَاطُهَا١ۚ فَاَنّٰى لَهُمْ اِذَا جَآءَتْهُمْ ذِكْرٰىهُمْ﴿18﴾
سو یہ لوگ بس قیامت ہی کے منتظر ہیں کہ ان پر دفعۃ آپڑے سو اس کے آثار تو پیدا ہی ہوچکے ہیں سو جب وہ ان کے سامنے آکھڑی ہوگی تو ان کو سمجھنا کہاں میسر ہوگا ؟۔فَاعْلَمْ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَ اسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مُتَقَلَّبَكُمْ وَ مَثْوٰىكُمْ۠ع﴿19﴾
تو آپ اس کا یقین رکھئے کہ بجز اللہ کے کوئی معبود نہیں اور اپنی خطا کی معافی مانگتے رہئے اور سارے ایمان والوں اور ایمان والیوں کے لئے بھی اور اللہ خوب خبر رکھتا ہے تم (سب) کے چلنے پھرنے اور رہنے سہنے کی۔وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَوْ لَا نُزِّلَتْ سُوْرَةٌ١ۚ فَاِذَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ مُّحْكَمَةٌ وَّ ذُكِرَ فِیْهَا الْقِتَالُ١ۙ رَاَیْتَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ یَّنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ نَظَرَ الْمَغْشِیِّ عَلَیْهِ مِنَ الْمَوْتِ١ؕ فَاَوْلٰى لَهُمْۚ﴿20﴾
اور جو لوگ ایمان والے ہیں وہ کہتے رہتے ہیں کہ کوئی (نئی) سورت کیوں نہ نازل ہوئی۔ سو جس وقت کوئی سورت صاف صاف مضمون کی نازل ہوتی ہے اور اس میں قتال کا ذکر ہوتا ہے تو آپ ان لوگوں کو دیکھئے گا جن کے دلوں میں روگ کہ آپ کی طرف اس طرح دیکھ رہے ہیں جیسے کسی پر موت کی بےہوشی طاری ہو۔ عنقریب ان کی شامت آنے والی ہے۔طَاعَةٌ وَّ قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ١۫ فَاِذَا عَزَمَ الْاَمْرُ١۫ فَلَوْ صَدَقُوا اللّٰهَ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْۚ﴿21﴾
ان کی) اطاعت اور بات چیت (کی حقیقت) معلوم ہے لیکن جب سارا کام تیار ہی ہوجاتا ہے تو (اس وقت بھی) اگر یہ لوگ اللہ سے سچے رہتے تو ان کے حق میں بہتر ہوتا۔فَهَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَ تُقَطِّعُوْۤا اَرْحَامَكُمْ﴿22﴾
اگر تم کنارہ کش رہو تو تم کو یہ احتمال بھی ہے کہ تم لوگ دنیا میں فساد مچا دوگے اور آپس میں قطع قرابت کر لوگے۔اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فَاَصَمَّهُمْ وَ اَعْمٰۤى اَبْصَارَهُمْ﴿23﴾
یہی لوگ تو ہیں جن پر اللہ کی لعنت کی ہے سو انہیں بہرا کردیا اور ان کی آنکھوں کو اندھا کردیا ہے۔اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰى قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَا﴿24﴾
تو کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے یا دلوں پر قفل لگ رہے ہیں ؟۔اِنَّ الَّذِیْنَ ارْتَدُّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمُ الْهُدَى١ۙ الشَّیْطٰنُ سَوَّلَ لَهُمْ١ؕ وَ اَمْلٰى لَهُمْ﴿25﴾
بیشک جو لوگ پشت پھیر کر ہٹ گئے بعد اس کے راہ ہدایت ان پر صاف ظاہر ہوچکی تھی انہیں شیطان نے چکمہ دیا اور انہیں دور دور کی سجھائی۔ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لِلَّذِیْنَ كَرِهُوْا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ سَنُطِیْعُكُمْ فِیْ بَعْضِ الْاَمْرِ١ۖۚ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اِسْرَارَهُمْ﴿26﴾
یہ اسی سبب سے ہوا کہ انہوں نے ان لوگوں سے جو اللہ کے اتارے ہوئے احکام کو ناگوار سمجھتے ہیں کہا کہ ہم چند امور میں تمہارا کہنا مان لیں گے اور اللہ ان کی خفیہ باتیں کرنے کو خوب جانتا ہے۔فَكَیْفَ اِذَا تَوَفَّتْهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ یَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَ اَدْبَارَهُمْ﴿27﴾
سو ان کا کیا حال ہوگا جب فرشتے ان کی جان قبض کررہے ہوں گے اور ان کے چہروں پر اور پشتوں پر مارتے جاتے ہوں گےذٰلِكَ بِاَنَّهُمُ اتَّبَعُوْا مَاۤ اَسْخَطَ اللّٰهَ وَ كَرِهُوْا رِضْوَانَهٗ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَهُمْ۠ع﴿28﴾
یہ (سب) اس سبب سے ہوگا کہ یہ اس راہ پر چلے جو طریقہ اللہ کی ناخوشی کا تھا اور اس کی رضا سے بیزار رہے سو اللہ نے ان کے اعمال اکارت کردیئے۔اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ اَنْ لَّنْ یُّخْرِجَ اللّٰهُ اَضْغَانَهُمْ﴿29﴾
کیا جن لوگوں کے دلوں میں روگ ہے وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ اللہ کبھی ان کی دلی عداوتوں کو کھول نہ دے گا ؟وَ لَوْ نَشَآءُ لَاَرَیْنٰكَهُمْ فَلَعَرَفْتَهُمْ بِسِیْمٰىهُمْ١ؕ وَ لَتَعْرِفَنَّهُمْ فِیْ لَحْنِ الْقَوْلِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اَعْمَالَكُمْ﴿30﴾
اور اگر ہم چاہتے تو ہم آپ کو ان کا پورا پتہ بتا دیتے تو آپ انہیں ان کے حلیہ سے پہچان لیتے اور آپ انہیں (ان کے) طرز کلام سے ضرور پہچان لیں گے اور اللہ تمہارے (سب کے) اعمال کو خوب جانتا ہے۔وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتّٰى نَعْلَمَ الْمُجٰهِدِیْنَ مِنْكُمْ وَ الصّٰبِرِیْنَ١ۙ وَ نَبْلُوَاۡ اَخْبَارَكُمْ﴿31﴾
اور ہم ضرور تمہاری آزمائش کریں گے تاکہ تم میں سے جہاد کرنے والوں اور تم میں سے ثابت قدم رہنے والوں کو معلوم کرلیں اور تاکہ تمہاری حالتوں کو چانچ کرلیں۔اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ شَآقُّوا الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمُ الْهُدٰى١ۙ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰهَ شَیْئًا١ؕ وَ سَیُحْبِطُ اَعْمَالَهُمْ﴿32﴾
بیشک جو لوگ کافر ہوئے اور انہوں نے اللہ کے راستہ سے روکا (بھی) اور رسول کی مخالفت کی بعد اس کے کہ راہ راست ان پر واضح ہوچکی تھی ہرگز یہ لوگ اللہ کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکیں گے اور اللہ ان کی کارروائیوں کو اکارت کرکے رہے گا۔یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ لَا تُبْطِلُوْۤا اَعْمَالَكُمْ﴿33﴾
اے ایمان والو اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور اپنے اعمال کو رائیگاں مت کردو۔اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ فَلَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ﴿34﴾
بیشک جو لوگ کافر ہوئے اور اللہ کے راستہ سے انہوں نے روکا پھر وہ کافر ہی مر بھی گئے تو اللہ انہیں ہرگز نہ بخشے گا۔فَلَا تَهِنُوْا وَ تَدْعُوْۤا اِلَى السَّلْمِ١ۖۗ وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ١ۖۗ وَ اللّٰهُ مَعَكُمْ وَ لَنْ یَّتِرَكُمْ اَعْمَالَكُمْ﴿35﴾
سو تم ہمت مت ہارو اور انہوں صلح کی طرف مت بلاؤ اور تم ہی غالب رہوگے اور اللہ تمہارے ساتھ ہے۔ اور وہ تمہارے اعمال (کے اجر) میں ہرگز کمی نہیں کرے گااِنَّمَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ١ؕ وَ اِنْ تُؤْمِنُوْا وَ تَتَّقُوْا یُؤْتِكُمْ اُجُوْرَكُمْ وَ لَا یَسْئَلْكُمْ اَمْوَالَكُمْ﴿36﴾
) یہ) دنیوی زندگی تو محض ایک کھیل اور تماشہ ہے اور اگر تم ایمان لاؤ اور تقوی اختیار کرو تو (اللہ) تم کو تمہارے اجر عطا کرے گا اور تم سے تمہارے مال طلب نہیں کرے گا۔ وہ اگر تم سے تمہارے مال طلب کرےاِنْ یَّسْئَلْكُمُوْهَا فَیُحْفِكُمْ تَبْخَلُوْا وَ یُخْرِجْ اَضْغَانَكُمْ﴿37﴾
اور آخری درجہ تک تم سے طلب کرتا رہے تو تم بخل کرنے لگو اور (اللہ) تمہاری ناگواری ظاہر کردے۔هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ تُدْعَوْنَ لِتُنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ فَمِنْكُمْ مَّنْ یَّبْخَلُ١ۚ وَ مَنْ یَّبْخَلْ فَاِنَّمَا یَبْخَلُ عَنْ نَّفْسِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ الْغَنِیُّ وَ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ١ۚ وَ اِنْ تَتَوَلَّوْا یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ١ۙ ثُمَّ لَا یَكُوْنُوْۤا اَمْثَالَكُمْ۠ع﴿38﴾
ہاں تم لوگ ایسے ہو کہ تمہیں بلایا جاتا ہے اللہ کی راہ میں خرچ کرنیکے لئے سو تم میں بعض وہ ہیں جو بخل کرتے ہیں اور جو کوئی بخل کرتا ہے وہ (درحقیقت) خود اپنے سے بخل کرتا ہے اور اللہ تو کسی کا محتاج نہیں بلکہ تم (سب اس کے) محتاج ہو۔ اور اگر تم روگردانی کروگے تو (اللہ) تمہاری جگہ دوسری قوم پیدا کردے گا پھر وہ تم جیسے نہ ہوں گے۔