48. Al-Fathالفتح

The Victory · Medinan · 29 ayahs · 4 rukus · مولانا عبد الماجد دریابادی

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

  1. اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِیْنًاۙ﴿1﴾

    بیشک ہم نے آپ کو ایک کھلا فتح دی
  2. لِّیَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْۢبِكَ وَ مَا تَاَخَّرَ وَ یُتِمَّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكَ وَ یَهْدِیَكَ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًاۙ﴿2﴾

    تاکہ اللہ آپ کی (سب) اگلی پچھلی خطائیں معاف کردے اور آپ پر احسانات کی (اور زیادہ) تکمیل کردے اور آپ کو سیدھے راستہ پر لے چلے
  3. وَّ یَنْصُرَكَ اللّٰهُ نَصْرًا عَزِیْزًا﴿3﴾

    اور اللہ آپ کو باعزت غلبہ دے۔
  4. هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ السَّكِیْنَةَ فِیْ قُلُوْبِ الْمُؤْمِنِیْنَ لِیَزْدَادُوْۤا اِیْمَانًا مَّعَ اِیْمَانِهِمْ١ؕ وَ لِلّٰهِ جُنُوْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًاۙ﴿4﴾

    وہ (اللہ) وہی تو ہے جس نے اہل ایمان کے دلوں میں تحمل پیدا کیا تاکہ (اپنے ایمان کے ساتھ (ان کا) ایمان اور زیادہ ہوجائے اور اللہ ہی کی ملک آسمانوں اور زمین کے لشکر ہیں اور اللہ بڑا جاننے والا ہے بڑا حکمت والا ہے۔
  5. لِّیُدْخِلَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا وَ یُكَفِّرَ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عِنْدَ اللّٰهِ فَوْزًا عَظِیْمًاۙ﴿5﴾

    (اور یہ اس لئے) تاکہ وہ ایمان والوں اور ایمان والیوں کو ایسے باغوں میں داخل کردے جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہوں ان میں یہ ہمیشہ رہیں گے اور تاکہ ان کے گناہ ان سے دور کردے اور یہ اللہ کے نزدیک بڑی کامیابی ہے۔
  6. وَّ یُعَذِّبَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ وَ الْمُشْرِكٰتِ الظَّآنِّیْنَ بِاللّٰهِ ظَنَّ السَّوْءِ١ؕ عَلَیْهِمْ دَآئِرَةُ السَّوْءِ١ۚ وَ غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ وَ لَعَنَهُمْ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَهَنَّمَ١ؕ وَ سَآءَتْ مَصِیْرًا﴿6﴾

    اور تاکہ وہ نفاق کرنے والوں اور نفاق والیوں اور شرک والوں اور شرک والیوں کو عذاب دے جو اللہ کے ساتھ برے برے گمان رکھتے ہیں۔ ان پر برا وقت آنے والا ہے اور اللہ ان پر غضبناک ہوگا اور انہیں رحمت سے دور کردے گا اور ان کے لیے اس نے دوزخ تیار کر رکھی ہے اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔
  7. وَ لِلّٰهِ جُنُوْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا﴿7﴾

    اور اللہ ہی کی ملک آسمانوں اور زمین کے لشکر ہیں اور اللہ بڑا زبردست ہے بڑا حکمت والا ہے۔
  8. اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ﴿8﴾

    بیشک ہم نے آپ کو گواہ اور بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔
  9. لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُ١ؕ وَ تُسَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا﴿9﴾

    (اس لئے) تاکہ تم لوگ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اس کی مدد کرو اور اس کی تعظیم کرو اور صبح وشام اس کی تسبیح میں لگے رہو۔
  10. اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَكَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰهَ١ؕ یَدُ اللّٰهِ فَوْقَ اَیْدِیْهِمْ١ۚ فَمَنْ نَّكَثَ فَاِنَّمَا یَنْكُثُ عَلٰى نَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ اَوْفٰى بِمَا عٰهَدَ عَلَیْهُ اللّٰهَ فَسَیُؤْتِیْهِ اَجْرًا عَظِیْمًا۠ع﴿10﴾

    بیشک جو لوگ آپ سے بیعت کررہے ہیں وہ اللہ ہی سے بیعت کررہے ہیں اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھ پر ہے۔ سو کوئی عہد توڑے گا تو اس کے عہد توڑنے کا وبال اس پر پڑے گا۔ اور جو کوئی اس چیز کو پورا کرلے گا جس کا اس نے اللہ سے عہد کیا ہے تو اللہ اسے عنقریب بڑا اجردے گا۔
  11. سَیَقُوْلُ لَكَ الْمُخَلَّفُوْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ شَغَلَتْنَاۤ اَمْوَالُنَا وَ اَهْلُوْنَا فَاسْتَغْفِرْ لَنَا١ۚ یَقُوْلُوْنَ بِاَلْسِنَتِهِمْ مَّا لَیْسَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ قُلْ فَمَنْ یَّمْلِكُ لَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا اِنْ اَرَادَ بِكُمْ ضَرًّا اَوْ اَرَادَ بِكُمْ نَفْعًا١ؕ بَلْ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا﴿11﴾

    جو دیہاتی (اس سفر میں) پیچھے رہ گئے وہ عنقریب آپ سے (آکر) کہیں گے کہ ہم کو ہمارے مال اور ہمارے عیال نے فرصت نہ لینے دی تو آپ ہمارے حق میں معافی کی دعا کردیجئے۔ یہ لوگ اپنی زبانوں سے وہ باتیں کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہیں آپ پوچھئے کہ وہ کون ہے جو اللہ کے سامنے تمہارے لئے کسی چیز کا بھی اختیار رکھتا ہے اگر (اللہ) تمہیں کوئی نقصان یا کوئی نفع پہنچانا چاہے نہیں بلکہ اللہ ہی تمہارے سب اعمال سے (خوب) باخبر ہے۔
  12. بَلْ ظَنَنْتُمْ اَنْ لَّنْ یَّنْقَلِبَ الرَّسُوْلُ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ اِلٰۤى اَهْلِیْهِمْ اَبَدًا وَّ زُیِّنَ ذٰلِكَ فِیْ قُلُوْبِكُمْ وَ ظَنَنْتُمْ ظَنَّ السَّوْءِ١ۖۚ وَ كُنْتُمْ قَوْمًۢا بُوْرًا﴿12﴾

    اصل یہ ہے کہ تم نے یہ سمجھ لیا تھا کہ رسول اور مومنین اپنے گھر والوں میں لوٹ کر کبھی نہیں آئیں گے اور یہ بات تمہارے دلوں کو خوش نما بھی معلوم ہوئی تھی اور تم نے برے برے گمان قائم کئے اور تم برباد ہونے والے لوگ ہوگئے۔
  13. وَ مَنْ لَّمْ یُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ فَاِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ سَعِیْرًا﴿13﴾

    اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہ لائے گا سو ہم نے کافروں کیلئے دوزخ تیار کر رکھی ہے
  14. وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا﴿14﴾

    اور اللہ ہی کی مک ہے آسمانوں اور زمین کی سلطنت وہ جسے چاہے بخش دے اور جسے چاہے عذاب دے اور اللہ تو بڑا بخشنے والا ہے بڑا رحمت کرنے والا۔
  15. سَیَقُوْلُ الْمُخَلَّفُوْنَ اِذَا انْطَلَقْتُمْ اِلٰى مَغَانِمَ لِتَاْخُذُوْهَا ذَرُوْنَا نَتَّبِعْكُمْ١ۚ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّبَدِّلُوْا كَلٰمَ اللّٰهِ١ؕ قُلْ لَّنْ تَتَّبِعُوْنَا كَذٰلِكُمْ قَالَ اللّٰهُ مِنْ قَبْلُ١ۚ فَسَیَقُوْلُوْنَ بَلْ تَحْسُدُوْنَنَا١ؕ بَلْ كَانُوْا لَا یَفْقَهُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا﴿15﴾

    یہ پیچھے رہ جانے والے عنقریب جب تم غنیمتیں لینے چلو گے تو کہیں گے کہ ہم کو بھی اجازت دو ہم تمہارے ساتھ ہولیں۔ چاہتے ہیں کہ اللہ کے حکم کو بدل ڈالیں آپ کہہ دیجئے تم ہرگز ہم لوگوں کے ساتھ نہیں چل سکتے اللہ نے پہلے یوں ہی فرمادیا ہے۔ اس پر یہ لوگ کہیں گے کہ نہیں بلکہ تم ہم سے حسد کرتے ہو اصل یہ ہے کہ یہ لوگ بہت ہی کم بات سمجھتے ہیں۔
  16. قُلْ لِّلْمُخَلَّفِیْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ سَتُدْعَوْنَ اِلٰى قَوْمٍ اُولِیْ بَاْسٍ شَدِیْدٍ تُقَاتِلُوْنَهُمْ اَوْ یُسْلِمُوْنَ١ۚ فَاِنْ تُطِیْعُوْا یُؤْتِكُمُ اللّٰهُ اَجْرًا حَسَنًا١ۚ وَ اِنْ تَتَوَلَّوْا كَمَا تَوَلَّیْتُمْ مِّنْ قَبْلُ یُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا﴿16﴾

    آپ ان پیچھے رہ جانے والے دیہاتیوں سے کہہ دیجئے کہ عنقریب تم ایسے لوگوں کی طرف بلائے جاؤ گے جو سخت لڑنے والے ہوں گے یا تو ان سے لڑتے رہو یا وہ مطیع (اسلام) ہوجائیں۔ سو اگر تم (اس وقت) اطاعت کرو گے تو اللہ تمہیں نیک عوض دے گا اور اگر روگردانی کرو گے جیسا کہ اس کے قبل روگردنای کرچکے ہو تو وہ تمہیں عذاب درد ناک کی سزا دے گا۔
  17. لَیْسَ عَلَى الْاَعْمٰى حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْمَرِیْضِ حَرَجٌ١ؕ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ یُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۚ وَ مَنْ یَّتَوَلَّ یُعَذِّبْهُ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ع﴿17﴾

    کوئی گناہ نہ اندھے پر ہے اور نہ کوئی گناہ لنگڑے پر ہے اور نہ کوئی گناہ بیمار پر اور جو کوئی بھی اللہ اور اس کے رسول کا کہنا مانے گا اسے وہ ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے ندیاں بہ رہی ہوں گی اور جو کوئی روگردانی کرے گا اسے وہ عذاب درد ناک کی سزا دے گا۔
  18. لَقَدْ رَضِیَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِیْ قُلُوْبِهِمْ فَاَنْزَلَ السَّكِیْنَةَ عَلَیْهِمْ وَ اَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِیْبًاۙ﴿18﴾

    بیشک اللہ خوش ہوا ان مسلمانوں سے جب کہ وہ آپ سے بیعت کررہے تھے درخت کے نیچے اور اللہ کو معلوم تھا جو کچھ ان کے دلوں میں تھا سو اللہ نے ان میں اطمینان پیدا کردیا اور ان کو ایک لگتے ہاتھ فتح بھی دے دی۔
  19. وَّ مَغَانِمَ كَثِیْرَةً یَّاْخُذُوْنَهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا﴿19﴾

    اور بہت سی غنیمتیں بھی جنہیں یہ لوگ لے رہے ہیں اور اللہ بڑا زبردست ہے بڑا حکمت والا ہے۔
  20. وَعَدَكُمُ اللّٰهُ مَغَانِمَ كَثِیْرَةً تَاْخُذُوْنَهَا فَعَجَّلَ لَكُمْ هٰذِهٖ وَ كَفَّ اَیْدِیَ النَّاسِ عَنْكُمْ١ۚ وَ لِتَكُوْنَ اٰیَةً لِّلْمُؤْمِنِیْنَ وَ یَهْدِیَكُمْ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًاۙ﴿20﴾

    اللہ نے تم سے (اور بھی) بہت سی غنیمتوں کا وعدہ کر رکھا ہے کہ تم انہیں لوگے سو (ان میں سے) یہ (فتح) تمہیں سردست دے دی ہے (غیر) لوگوں کے ہاتھ تم سے روک دیئے اور تاکہ یہ اہل ایمان کے لئے ایک نمونہ ہوجائے اور تاکہ تم کو ایک سیدھی راہ پر ڈال دے۔
  21. وَّ اُخْرٰى لَمْ تَقْدِرُوْا عَلَیْهَا قَدْ اَحَاطَ اللّٰهُ بِهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرًا﴿21﴾

    اور ایک اور (فتح) بھی ہے جو (ابھی) تمہارے قابو میں نہیں آئی ہے اللہ اسے احاطہ (قدرت) میں لئے ہوئے ہے اور اللہ تو ہر شئی پر قادر ہے۔
  22. وَ لَوْ قٰتَلَكُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوَلَّوُا الْاَدْبَارَ ثُمَّ لَا یَجِدُوْنَ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا﴿22﴾

    اور اگر تم سے یہ کافر لڑتے تو ضرور پیٹھ پھیر کر بھاگتے اور پھر انہیں نہ کوئی یارملتا نہ مددگار۔
  23. سُنَّةَ اللّٰهِ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ١ۖۚ وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِیْلًا﴿23﴾

    اللہ نے یہی دستور کر رکھا ہے جو پہلے سے چلا آرہا ہے اور آپ اللہ کے دستور میں کوئی ردوبدل نہ پائیں گے۔
  24. وَ هُوَ الَّذِیْ كَفَّ اَیْدِیَهُمْ عَنْكُمْ وَ اَیْدِیَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَكُمْ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرًا﴿24﴾

    وہ (اللہ) وہی تو ہے جس نے ان کے ہاتھ تم سے اور تمہارے ہاتھ ان سے بطن مکہ میں روک دیئے بعد اس کے کہ تم کو ان پر قابو دے دیا تھا اور اللہ تمہارے کاموں کو خوب دیکھ رہا تھا۔
  25. هُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ الْهَدْیَ مَعْكُوْفًا اَنْ یَّبْلُغَ مَحِلَّهٗ١ؕ وَ لَوْ لَا رِجَالٌ مُّؤْمِنُوْنَ وَ نِسَآءٌ مُّؤْمِنٰتٌ لَّمْ تَعْلَمُوْهُمْ اَنْ تَطَئُوْهُمْ فَتُصِیْبَكُمْ مِّنْهُمْ مَّعَرَّةٌۢ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ۚ لِیُدْخِلَ اللّٰهُ فِیْ رَحْمَتِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ لَوْ تَزَیَّلُوْا لَعَذَّبْنَا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا﴿25﴾

    یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تم کو مسجد حرام سے روکا اور قربانی کے جانور کو جو رکا ہوا رہ گیا تھا اس کے موقع میں پہنچنے سے روک دیا۔ اور اگر (بہت سے) مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں نہ ہوتیں جن کی تمہیں خبر بھی نہ تھی یعنی ان کے کچل جانے کا احتمال نہ ہوتا جس پر ان کے باعث تمہیں بھی نادانستگی میں ضرر پہنچتا (تو ابھی سب قضیہ طے کردیا جاتا۔ لیکن ایسا نہیں ہوا) تاکہ اللہ اپنی رحمت میں داخل کرے جس کو چاہے۔ اگر یہ (بےکس مسلمان) ٹل گئے ہوتے تو ان میں جو کافر تھے انہیں ہم دردناک عذاب دیتے۔ (
  26. اِذْ جَعَلَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْحَمِیَّةَ حَمِیَّةَ الْجَاهِلِیَّةِ فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوٰى وَ كَانُوْۤا اَحَقَّ بِهَا وَ اَهْلَهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا۠ع﴿26﴾

    اور وہ وقت بھی یاد کرو) جب (ان) کافروں نے اپنے دلوں میں عصبیت عصبیت جاہلی کو جگہ دی لیکن اللہ نے اپنی طرف سے تحمل اپنے رسول اور مومنین کو عطا کیا۔ اور (اللہ نے) انہیں تقوی کی بات پر جمائے رکھا اور وہ اس کے مستحق بھی ہیں اور اہل بھی اور اللہ تو ہر شے کا (پورا) علم رکھتا ہے۔
  27. لَقَدْ صَدَقَ اللّٰهُ رَسُوْلَهُ الرُّءْیَا بِالْحَقِّ١ۚ لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِیْنَ١ۙ مُحَلِّقِیْنَ رُءُوْسَكُمْ وَ مُقَصِّرِیْنَ١ۙ لَا تَخَافُوْنَ١ؕ فَعَلِمَ مَا لَمْ تَعْلَمُوْا فَجَعَلَ مِنْ دُوْنِ ذٰلِكَ فَتْحًا قَرِیْبًا﴿27﴾

    بیشک اللہ نے اپنے رسول کو سچا خواب دکھایا مطابق واقع کے تم لوگ مسجد حرام میں انشاء اللہ ضرور داخل ہوگے امن وامان کے ساتھ سرمنڈاتے ہوئے اور بال کتراتے ہوئے اور تمہیں اندیشہ (کسی کا بھی) نہ ہوگا۔ سو اللہ کو وہ (سب کچھ) معلوم ہے جو تمہیں معلوم نہیں پھر اس نے اس سے پہلے ہی ایک لگتے ہاتھ فتح دے دی۔
  28. هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًاؕ﴿28﴾

    وہ (اللہ) وہی تو ہے جس نے اپنے پیغمبر کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا ہے تاکہ اس کو تمام دینوں پر غالب کردے اور اللہ کافی گواہ ہے۔
  29. مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَهُمْ تَرٰىهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا یَّبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا١٘ سِیْمَاهُمْ فِیْ وُجُوْهِهِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِ١ؕ ذٰلِكَ مَثَلُهُمْ فِی التَّوْرٰىةِ١ۛۖۚ وَ مَثَلُهُمْ فِی الْاِنْجِیْلِ١ۛ۫ۚ كَزَرْعٍ اَخْرَجَ شَطْئَهٗ فَاٰزَرَهٗ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوٰى عَلٰى سُوْقِهٖ یُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِیَغِیْظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ١ؕ وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا۠ع﴿29﴾

    محمد اللہ کے پیغمبر ہیں۔ اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ تیز ہیں کافروں کے مقابلہ میں (اور) مہربان ہیں آپس میں۔ تو انہیں دیکھے گا (اے مخاطب) کہ (کبھی) رکوع کررہے ہیں (کبھی) سجدہ کررہے ہیں اللہ کے فضل اور رضامندی کی جستجو میں لگے ہوئے ہیں ان کے آثار سجدہ کی تاثیر سے ان کے چہروں پر نمایاں ہیں۔ یہ ان کے اوصاف توریت میں ہیں۔ اور انجیل میں ان کا وصف یہ ہے کہ وہ جیسے کھیتی کہ اس نے اپنی سوئی نکالی پھر اس نے اپنی سوئی کو قوی کیا پھر وہ اور موٹی ہوئی پھر اپنے تنہ پر سیدھی کھڑی ہوگئی کہ کسانوں کو بھلی معلوم ہونے لگی۔ (یہ نشوونما صحابہ کو اس لئے دیا) تاکہ کافروں کو ان سے جلائے اور اللہ نے ان سے جو ایمان لائے ہیں اور (جنہوں نے) نیک کام کئے مغفرت اور اجر عظیم کا وعدہ کر رکھا ہے۔