46. Al-Ahqafالأحقاف

The Dunes · Meccan · 35 ayahs · 4 rukus · مولانا عبد الماجد دریابادی

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

  1. حٰمٓۚ﴿1﴾

    حا۔ میم
  2. تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ﴿2﴾

    ) یہ) کتاب نازل کی ہوئی ہے اللہ غالب اور حکمت والے کی طرف سے۔
  3. مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَمَّاۤ اُنْذِرُوْا مُعْرِضُوْنَ﴿3﴾

    ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے حکمت ہی کے ساتھ اور ایک میعاد مقرر کے ساتھ پیدا کیا ہے اور جو کافر ہیں وہ اس چیز سے جس سے انہیں ڈرایا جاتا ہے بےرخی کئے ہوئے ہیں۔
  4. قُلْ اَرَءَیْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَرُوْنِیْ مَا ذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَهُمْ شِرْكٌ فِی السَّمٰوٰتِ١ؕ اِیْتُوْنِیْ بِكِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ هٰذَاۤ اَوْ اَثٰرَةٍ مِّنْ عِلْمٍ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ﴿4﴾

    آپ کہہ دیجئے کہ یہ تو بتلاؤ کہ جن چیزوں کو تم پکارتے ہو اللہ کے سوا مجھے دکھاؤ کہ انہوں نے کون سے زمین پیدا کی ہے یا یہ کہ ان کا ساجھا آسمان میں ہے میرے پاس کوئی کتاب لاؤ جو اس سے پہلے کی ہو یا کوئی مضمون منقول (معتبر) لاؤ اگر تم سچے ہو۔
  5. وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ یَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَنْ لَّا یَسْتَجِیْبُ لَهٗۤ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ وَ هُمْ عَنْ دُعَآئِهِمْ غٰفِلُوْنَ﴿5﴾

    اور اس سے بڑھ کر گمراہ اور کون ہوگا جو اللہ کے سوا کسی اور کو پکارے جو قیامت تک بھی اس کی بات نہ سنے بلکہ انہیں ان کے پکارنے کی خبر تک نہ ہو
  6. وَ اِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوْا لَهُمْ اَعْدَآءً وَّ كَانُوْا بِعِبَادَتِهِمْ كٰفِرِیْنَ﴿6﴾

    اور جب سب لوگ اکٹھے کئے جائیں تو وہ ان کے دشمن نکلیں اور ان کی عبادت ہی کا انکار کربیٹھیں۔
  7. وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ١ۙ هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌؕ﴿7﴾

    اور جب ان لوگوں کے روبرو ہماری کھلی ہوئی آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو جو لوگ کافر ہیں وہ اس سچائی کی بابت جب وہ ان تک پہنچتی ہے تو کہتے ہیں کہ یہ تو صریح جادو ہے۔
  8. اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُهٗ فَلَا تَمْلِكُوْنَ لِیْ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ هُوَ اَعْلَمُ بِمَا تُفِیْضُوْنَ فِیْهِ١ؕ كَفٰى بِهٖ شَهِیْدًۢا بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ﴿8﴾

    تو کیا یہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس (شخص) نے قرآن گڑھ لیا ہے ؟ آپ کہہ دیجئے کہ اگر میں نے اسے گڑھ لیا ہے تو تم لوگ مجھے اللہ سے ذرا بھی بچا نہیں سکتے۔ وہ خوب جانتا ہے جو جو باتیں تم قرآن کے باب میں بنا رہے ہو وہی میرے تمہارے درمیان کافی گواہ ہے اور وہ بڑا مغفرت والا ہے بڑا رحیم ہے۔
  9. قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَ مَاۤ اَدْرِیْ مَا یُفْعَلُ بِیْ وَ لَا بِكُمْ١ؕ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ وَ مَاۤ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ﴿9﴾

    آپ کہہ دیجئے کہ میں رسولوں میں کوئی انوکھا تو ہوں نہیں تو ہوں نہیں میں تو یہ بھی نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور تمہارے ساتھ کیا میں تو بس اسی کا اتباع کرتا ہوں جو میرے پاس وحی آتی ہے اور میں تو صرف ایک صاف ڈرانے والا۔
  10. قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ وَ كَفَرْتُمْ بِهٖ وَ شَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَلٰى مِثْلِهٖ فَاٰمَنَ وَ اسْتَكْبَرْتُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠ع﴿10﴾

    ہوں آپ کہئے کہ اچھا یہ تو بتاؤ کہ اگر یہ (قرآن) اللہ ہی کی طرف سے ہو اور پھر تم اس سے کفر کررہے ہو اور بنی اسرائیل میں سے ایک گواہ اس جیسی کتاب پر گواہی دے اور ایمان لے آئے اور تم تکبر ہی میں رہو۔ بیشک اللہ بےانصاف لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔
  11. وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَوْ كَانَ خَیْرًا مَّا سَبَقُوْنَاۤ اِلَیْهِ١ؕ وَ اِذْ لَمْ یَهْتَدُوْا بِهٖ فَسَیَقُوْلُوْنَ هٰذَاۤ اِفْكٌ قَدِیْمٌ﴿11﴾

    اور یہ کافر ایمان والوں کی نسبت یہ کہتے ہیں کہ یہ (قرآن) اگر کوئی اچھی چیز ہوتا تو یہ لوگ اس کی طرف ہم سے سبقت نہ کرجاتے اور جب ان لوگوں کو ہدایت نصیب نہ ہوئی تو کہنے لگتے ہیں کہ یہ وہی پرانا جھوٹ ہے۔
  12. وَ مِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰۤى اِمَامًا وَّ رَحْمَةً١ؕ وَ هٰذَا كِتٰبٌ مُّصَدِّقٌ لِّسَانًا عَرَبِیًّا لِّیُنْذِرَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۖۗ وَ بُشْرٰى لِلْمُحْسِنِیْنَۚ﴿12﴾

    حالانکہ اس کے قبل موسیٰ ؑ کی کتاب بھی رہنما اور رحمت تھی اور یہ کتاب اس کی تصدیق کرنے والی ہے عربی زبان میں ہے تاکہ ظالموں کو ڈرائے۔ اور نیک لوگوں کے حق میں بشارت ہے
  13. اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚ﴿13﴾

    جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار اللہ ہے پھر (اس پر) قائمر ہے سو ان لوگوں پر کوئی خوف نہیں اور نہ وہ غمگین ہوں گے
  14. اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ﴿14﴾

    یہی لوگ تو اہل جنت میں ہیں اس میں ہمیشہ رہیں گے بعوض ان کاموں کے جو وہ کرتے رہتے تھے۔
  15. وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ اِحْسٰنًا١ؕ حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ كُرْهًا وَّ وَضَعَتْهُ كُرْهًا١ؕ وَ حَمْلُهٗ وَ فِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ اَشُدَّهٗ وَ بَلَغَ اَرْبَعِیْنَ سَنَةً١ۙ قَالَ رَبِّ اَوْزِعْنِیْۤ اَنْ اَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَ عَلٰى وَالِدَیَّ وَ اَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰىهُ وَ اَصْلِحْ لِیْ فِیْ ذُرِّیَّتِیْ١ؕۚ اِنِّیْ تُبْتُ اِلَیْكَ وَ اِنِّیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ﴿15﴾

    اور ہم نے انسان کو حکم دیا ہے کہ اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرتا رہے اس کی ماں نے اس کو بڑی مشقت کے ساتھ پیٹ میں رکھا اور بڑی مشقت کے ساتھ اسے جنا اور اس کا حمل اور اس کی دودھ بڑہائی تیس مہینوں میں ہوپاتی ہے۔ یہاں تک کہ جب وہ اپنی پوری پختگی کو پہنچ جاتا ہے اور چالیس سال کو پہنچتا ہے تو کہتا ہے کہ اے میرے پروردگار مجھے اس پر مدوامت دے کہ تیری نعمتوں کا شکر ادا کرتارہوں جو تو نے مجھ کو اور میرے والدین کو عطا کی ہیں اور اس پر کہ میں نیک عمل کرتارہوں کہ تو خوش ہو اور میری اولاد میں بھی میرے لئے صالحیت پیدا کردے میں تیری جناب میں توبہ کرتا ہوں اور میں فرمانبرداروں میں سے ہوں۔
  16. اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَ نَتَجَاوَزُ عَنْ سَیِّاٰتِهِمْ فِیْۤ اَصْحٰبِ الْجَنَّةِ١ؕ وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِیْ كَانُوْا یُوْعَدُوْنَ﴿16﴾

    یہی وہ لوگ ہیں کہ ہم ان کے اچھے اچھے عمل کو قبول کریں گے اور ان کے گناہوں سے درگزر کریں گے (یہ) اصحاب جنت میں سے (ہوں گے) اس سچے وعدہ (کی بناء) پر جس کا ان سے وعدہ کیا جاچکا تھا۔
  17. وَ الَّذِیْ قَالَ لِوَالِدَیْهِ اُفٍّ لَّكُمَاۤ اَتَعِدٰنِنِیْۤ اَنْ اُخْرَجَ وَ قَدْ خَلَتِ الْقُرُوْنُ مِنْ قَبْلِیْ١ۚ وَ هُمَا یَسْتَغِیْثٰنِ اللّٰهَ وَیْلَكَ اٰمِنْ١ۖۗ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ١ۖۚ فَیَقُوْلُ مَا هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ﴿17﴾

    اور جس شخص نے اپنے ماں باپ سے کہا کہ تف ہے تم پر کیا تم مجھے یہ خبردیتے ہو کہ میں (قبر سے) نکالا جاؤں گا درآنحالیکہ مجھ سے پہلے (بہت سی) امتیں گزر چکی ہیں۔ اور وہ دونوں اللہ سے فریاد کررہے ہیں۔ (اور اس اولاد سے کہہ رہے ہیں) ارے تیری کم بختی تو یمان لا بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ تو (اس پر) وہ کہتا (کیا) ہے کہ یہ تو بس اگلوں کے دھکوسلے ہیں۔
  18. اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا خٰسِرِیْنَ﴿18﴾

    یہی وہ لوگ ہیں کہ انکے حق میں ان لوگوں کے ساتھ (اللہ کا) قول پورا ہو کر رہا جو ان سے قبل جنات اور انسانوں میں گزر چکے ہیں بیشک یہ لوگ خسارہ میں رہے۔
  19. وَ لِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا١ۚ وَ لِیُوَفِّیَهُمْ اَعْمَالَهُمْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ﴿19﴾

    اور ہر ایک کے لئے ان کے اعمال کے مطابق (الگ الگ) درجے ہیں تاکہ (اللہ) ان کے اعمال کی جزا پوری دے اور ان پر ظلم (کسی طرح کا بھی) نہ ہوگا۔
  20. وَ یَوْمَ یُعْرَضُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَلَى النَّارِ١ؕ اَذْهَبْتُمْ طَیِّبٰتِكُمْ فِیْ حَیَاتِكُمُ الدُّنْیَا وَ اسْتَمْتَعْتُمْ بِهَا١ۚ فَالْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ بِمَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ بِمَا كُنْتُمْ تَفْسُقُوْنَ۠ع﴿20﴾

    اور جس روز کافر لوگ آگ کے سامنے لائے جائیں گے کہ تم اپنی لذت کی چیزیں (سب) دنیا ہی میں حاصل کرچکے اور ان کا خوب مزہ اٹھا چکے۔ سو آج تمہیں ذلت کی سزادی جائے گی اس لئے کہ تم دنیا میں ناحق تکبر کیا کرتے تھے اور اس لئے کہ تم نافرمانیاں کیا کرتے تھے۔
  21. وَ اذْكُرْ اَخَا عَادٍ١ؕ اِذْ اَنْذَرَ قَوْمَهٗ بِالْاَحْقَافِ وَ قَدْ خَلَتِ النُّذُرُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖۤ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ﴿21﴾

    اور آپ (ان سے) ذکر کیجئے قوم عاد کے بھائی کا جبکہ انہوں نے اپنی قوم کو ڈرایا ریگ کے تودوں (کی بستی) میں۔۔ اور ان سے پہلے اور ان سے پیچھے بھی ڈرانے والے گزرچکے ہیں اس بات سے کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت مت کرو مجھے تمہارے لئے اندیشہ ایک بڑے (سخت) دن کے عذاب کا ہے۔
  22. قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِتَاْفِكَنَا عَنْ اٰلِهَتِنَا١ۚ فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ﴿22﴾

    وہ لوگ بولے تو کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ ہمیں ہمارے معبودوں سے برگشتہ کردو تو ہم پر لاواقع کرو (وہ عذاب) جس کا تم ہم سے وعدہ کررہے ہو اگر تم سچے ہو۔
  23. قَالَ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰهِ١ۖ٘ وَ اُبَلِّغُكُمْ مَّاۤ اُرْسِلْتُ بِهٖ وَ لٰكِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُوْنَ﴿23﴾

    انہوں نے فرمایا کہ (پورا) علم تو بس اللہ ہی کو ہے میں تو تمہیں وہی پہنچاتا ہوں جس کا پیام دے کر مجھے بھیجا گیا ہے البتہ تمہیں کو دیکھتا ہوں کہ تم لوگ نری جہالت کی باتیں کررہے ہو۔
  24. فَلَمَّا رَاَوْهُ عَارِضًا مُّسْتَقْبِلَ اَوْدِیَتِهِمْ١ۙ قَالُوْا هٰذَا عَارِضٌ مُّمْطِرُنَا١ؕ بَلْ هُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِهٖ١ؕ رِیْحٌ فِیْهَا عَذَابٌ اَلِیْمٌۙ﴿24﴾

    پھر جب ان لوگوں نے بادل کو اپنی وادیوں کے مقابل آتے دیکھا تو بولے کہ یہ تو بادل ہے جو ہم پر برسے گا نہیں بلکہ یہ تو وہ ہے جس کی تم جلدی مچایا کرتے تھے یعنی ایک آندھی جس میں درد ناک عذاب ہے
  25. تُدَمِّرُ كُلَّ شَیْءٍۭ بِاَمْرِ رَبِّهَا فَاَصْبَحُوْا لَا یُرٰۤى اِلَّا مَسٰكِنُهُمْ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ﴿25﴾

    وہ ہر چیز کو اپنے پروردگار کے حکم سے ہلاک کردے گی چناچہ وہ ایسے ہوگئے کہ بجز ان کے مکانات کے اور کچھ دیکھنے کو نہیں رہا ہم مجرموں کو یوں ہی سزا دیا کرتے ہیں۔
  26. وَ لَقَدْ مَكَّنّٰهُمْ فِیْمَاۤ اِنْ مَّكَّنّٰكُمْ فِیْهِ وَ جَعَلْنَا لَهُمْ سَمْعًا وَّ اَبْصَارًا وَّ اَفْئِدَةً١ۖ٘ فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ سَمْعُهُمْ وَ لَاۤ اَبْصَارُهُمْ وَ لَاۤ اَفْئِدَتُهُمْ مِّنْ شَیْءٍ اِذْ كَانُوْا یَجْحَدُوْنَ١ۙ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ع﴿26﴾

    اور ہم نے ان لوگوں کو جو قدرت دی تھی وہ قدرت تم لوگوں کو نہیں دی اور ہم نے ان کو کان اور آنکھیں اور دل دئے تھے سو نہ ان کے ان کان ان کے ذرا بھی کام آئے اور نہ ان کی آنکھیں اور نہ ان کے دل جب کہ وہ لوگ اللہ کی آیتوں کے خلاف ہٹ کرتے رہے اور جس (عذاب) کی وہ ہنسی کیا کرتے تھے اسی نے ان کو آگھیرا۔
  27. وَ لَقَدْ اَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُمْ مِّنَ الْقُرٰى وَ صَرَّفْنَا الْاٰیٰتِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ﴿27﴾

    اور ہم نے تمہارے گردو پیش کی (اور) بستیوں کو بھی غارت کردیا اور (اپنی) نشانیاں بھی پھیر پھیر کر بیان کردی ہیں کہ شاید وہ باز آجائیں۔
  28. فَلَوْ لَا نَصَرَهُمُ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ قُرْبَانًا اٰلِهَةً١ؕ بَلْ ضَلُّوْا عَنْهُمْ١ۚ وَ ذٰلِكَ اِفْكُهُمْ وَ مَا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ﴿28﴾

    سو ان کی مدد ان لوگوں نے کیوں نہ کی جنہیں انہوں نے اللہ کے سوا معبود بنا رکھا تھا تقرب کے لئے وہ تو الٹے ان سے غائب ہوگئے اور یہ محض ان کی تراشی ہوئی اور گڑھی ہوئی بات تھی۔
  29. وَ اِذْ صَرَفْنَاۤ اِلَیْكَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ یَسْتَمِعُوْنَ الْقُرْاٰنَ١ۚ فَلَمَّا حَضَرُوْهُ قَالُوْۤا اَنْصِتُوْا١ۚ فَلَمَّا قُضِیَ وَ لَّوْا اِلٰى قَوْمِهِمْ مُّنْذِرِیْنَ﴿29﴾

    اور (اس وقت کا ذکر کیجئے) جب ہم جنات کی ایک جماعت کو آپ کی طرف لے آئے جو قرآن سننے لگے تھے غرض جب وہ لوگ آپ کے پاس آپہنچے تو کہنے لگے کہ خاموش رہو۔ پھر جب وہ ختم ہوچکا تو وہ لوگ اپنی قوم کے پاس ڈرانے کیلئے گئے۔
  30. قَالُوْا یٰقَوْمَنَاۤ اِنَّا سَمِعْنَا كِتٰبًا اُنْزِلَ مِنْۢ بَعْدِ مُوْسٰى مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ یَهْدِیْۤ اِلَى الْحَقِّ وَ اِلٰى طَرِیْقٍ مُّسْتَقِیْمٍ﴿30﴾

    کہنے لگے اے ہمارے قوم والو ہم ایک کتاب سن کر آئے ہیں جو موسیٰ کے بعد نازل کی گئی ہے جو اپنے پہلی (کتابوں) کی تصدیق کرتی ہے اور حق اور راہ راست کی طرف رہنمائی کرتی ہے
  31. یٰقَوْمَنَاۤ اَجِیْبُوْا دَاعِیَ اللّٰهِ وَ اٰمِنُوْا بِهٖ یَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَ یُجِرْكُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ﴿31﴾

    اے ہمارے قوم والو کہنامانو اللہ کی طرف بلانے والے کا اور اس پر ایمان لے آؤ اللہ تمہارے گناہ معاف کردے گا اور تمہیں محفوظ رکھے گا عذاب درد ناک سے۔
  32. وَ مَنْ لَّا یُجِبْ دَاعِیَ اللّٰهِ فَلَیْسَ بِمُعْجِزٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَیْسَ لَهٗ مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءُ١ؕ اُولٰٓئِكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ﴿32﴾

    اور جو کوئی اللہ کی طرف بلانے والے کا کہنا نہ مانے گا تو وہ زمین میں کہیں بھی (اللہ کو) نہیں ہراسکتا اور نہ اللہ کے سوا کوئی حامی ہوگا یہی لوگ صریح گمراہی میں (پڑے) ہیں۔
  33. اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ لَمْ یَعْیَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ یُّحْیَِۧ الْمَوْتٰى١ؕ بَلٰۤى اِنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ﴿33﴾

    کیا ان لوگوں نے یہ نہ جانا کہ اللہ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور ان کے پیدا کرنے سے (ذرا بھی) نہ تھکا وہ اس پر بھی قدرت رکھتا ہے کہ مردوں کو زندہ کردے کیوں نہیں بیشک وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
  34. وَ یَوْمَ یُعْرَضُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَلَى النَّارِ١ؕ اَلَیْسَ هٰذَا بِالْحَقِّ١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ رَبِّنَا١ؕ قَالَ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ﴿34﴾

    اور جس روز کافر لوگ دوزخ کے سامنے لائے جائیں گے (اور ان سے پوچھا جائے گا کہ) یہ حقیقت ہے یا نہیں تو وہ کہیں گے کہ بیشک ہے ہم کو قسم ہے ہمارے پروردگار کی (تب) ارشاد ہوگا کہ اچھا تو چکھو عذاب اپنے کفر کے بدلہ میں۔
  35. فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَ لَا تَسْتَعْجِلْ لَّهُمْ١ؕ كَاَنَّهُمْ یَوْمَ یَرَوْنَ مَا یُوْعَدُوْنَ١ۙ لَمْ یَلْبَثُوْۤا اِلَّا سَاعَةً مِّنْ نَّهَارٍ١ؕ بَلٰغٌ١ۚ فَهَلْ یُهْلَكُ اِلَّا الْقَوْمُ الْفٰسِقُوْنَ۠ع﴿35﴾

    آپ صبر کیجئے جیسا کہ ہمت والے پیغمبروں نے صبر کیا تھا اور ان لوگوں کے حق میں جلدی نہ کیجئے۔ جس روز یہ دیکھ لیں گے اس (عذاب) کو جس کا ان سے وعدہ کیا جارہا ہے تو اس وقت (انہیں ایسا معلوم ہوگا کہ) گویا دن بھر میں کل ایک گھڑی رہے ہیں (یہ اللہ کی طرف سے) تبلیغ ہے سو برباد تو وہی ہوں گے جو نافرمان ہوں گے۔