Madarik-ut-Tanzil - Az-Zumar : 63
وَ ذَرِ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَهُمْ لَعِبًا وَّ لَهْوًا وَّ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا وَ ذَكِّرْ بِهٖۤ اَنْ تُبْسَلَ نَفْسٌۢ بِمَا كَسَبَتْ١ۖۗ لَیْسَ لَهَا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیٌّ وَّ لَا شَفِیْعٌ١ۚ وَ اِنْ تَعْدِلْ كُلَّ عَدْلٍ لَّا یُؤْخَذْ مِنْهَا١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اُبْسِلُوْا بِمَا كَسَبُوْا١ۚ لَهُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ وَّ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ۠   ۧ
وَذَرِ : اور چھوڑ دے الَّذِيْنَ : وہ لوگ جو اتَّخَذُوْا : انہوں نے بنا لیا دِيْنَهُمْ : اپنا دین لَعِبًا : کھیل وَّلَهْوًا : اور تماشا وَّغَرَّتْهُمُ : اور انہیں دھوکہ میں ڈالدیا الْحَيٰوةُ : زندگی الدُّنْيَا : دنیا وَذَ كِّرْ : اور نصیحت کرو بِهٖٓ : اس سے اَنْ : تاکہ تُبْسَلَ : پکڑا (نہ) جائے نَفْسٌ : کوئی بِمَا : بسبب جو كَسَبَتْ : اس نے کیا لَيْسَ : نہیں لَهَا : اس کے لیے مِنْ : سے دُوْنِ اللّٰهِ : سوائے اللہ وَلِيٌّ : کوئی حمایتی وَّلَا : اور نہ شَفِيْعٌ : کوئی سفارش کرنیوالا وَاِنْ : اور اگر تَعْدِلْ : بدلہ میں دے كُلَّ : تمام عَدْلٍ : معاوضے لَّا يُؤْخَذْ : نہ لیے جائیں مِنْهَا : اس سے اُولٰٓئِكَ : یہی لوگ الَّذِيْنَ : وہ لوگ جو اُبْسِلُوْا : پکڑے گئے بِمَا كَسَبُوْا : جو انہوں نے کمایا (اپنا لیا لَهُمْ : ان کے لیے شَرَابٌ : پینا (پانی) مِّنْ : سے حَمِيْمٍ : گرم وَّعَذَابٌ : اور عذاب اَلِيْمٌ : دردناک بِمَا : اس لیے کہ كَانُوْا يَكْفُرُوْنَ : وہ کفر کرتے تھے
اسی کے پاس آسمانوں اور زمین کی کنجیاں ہیں اور جنہوں نے خدا کی آیتوں سے کفر کیا وہی نقصان اٹھانے والے ہیں
لہ مقالید السموات والارض، اسی کے اختیار میں ہیں کنجیاں آسمانوں اور زمین کی۔ یعنی وہ ان کے معاملے کا مالک اور ان کا محافظ ہے۔ یہ باب کنایہ میں سے ہے۔ کیونکہ خزانوں کے محافظ اور خزانوں کے معاملات کی تدبیر کرنے ولا ہی خزانوں کی چابیوں کا مالک ہوتا ہے۔ عرب کہتے ہیں فلان القیت الیہ مقالید الملک۔ میں نے فلاں کو ملک کی چابیاں سپرد کردیں۔ المقالید جمع قلید اس کا معنی چابیاں۔ ایک قول یہ ہے کہ لفظاً اس کا واحد مستعمل نہیں۔ یہ لفظ اصلاً فارسی ہے۔ آیت والذین کفروا بایت اللہ اولئک ہم الخسرون، اور وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی آیات نہیں مانتے وہ بڑے خسارہ میں رہیں گے۔ یہ ینجی اللہ الذی اتقوا سے متصل ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ متقوین کو ان کی کامیابی کے سبب نجات دیں گے اور جو لوگ کافر ہیں وہ خسارہ میں رہیں گے۔ اور ان کے مابین جملہ معترضہ لائے کہ وہ ہر چیز کا خالق اور نگہبان ہے۔ اس پر اعمال مکلفین کا کوئی عمل مخفی نہیں اور جن اعمال پر ان کو بدلہ دیا جائے گا (وہ بھی اس کے سامنے ہیں) یا اس آیت کا تعلق قریب سے ہے کہ ہر شیء آسمان و زمین کی اس کا خالق اللہ تعالیٰ ہے اور اس کے دروازے کا کھولنے والا ہے اور لوگ جنہوں نے معاملہ اس طرح تسلیم نہ کیا وہ لوگ کفر و انکار کرنے والے ہیں وہی نقصان اٹھائیں گے۔ ایک روایت ہے کہ عثمان ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے لہ مقالید السموات والارض کی تفسیر دریافت کی۔ آپ نے فرمایا اے عثمان ! تم سے پہلے اس کے متعلق کسی نے سوال نہیں ! اس کی تفسیر لا الہ اللہ، اللہ اکبر سبحان اللہ وبحمدہ، واستغفر اللہ ولا حول ولا قوۃ الا باللہ ھو الاول والآخر والظاھر والباطن بیدہ الخیر یحییٰ ویمیت وھو علی کل شیء قدیر (رواہ البیہقی فی الاسماء والصفات) ۔ اور اس تفسیر کے مطابق آیت کا مطلب یہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی کی ذات کیلئے یہ کلمات ہیں ان سے اس کی وحدانیت ظاہر ہوتی ہے اور بزرگی کی بیان کی جاتی ہے یہ آسمانوں و زمین کی خیر و بھلائی کی کنجیاں ہیں۔ متقین میں جس نے یہ کلمات زبان سے کہے وہ اس خیر کو پالے گا۔ اور وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرنے والے ہیں اور اس کی توحید و تمجید کے کلمات نہیں مانتے وہی خسارہ پانے والے ہیں۔
Top