Anwar-ul-Bayan - An-Nisaa : 55
اَنْ تَقُوْلَ نَفْسٌ یّٰحَسْرَتٰى عَلٰى مَا فَرَّطْتُّ فِیْ جَنْۢبِ اللّٰهِ وَ اِنْ كُنْتُ لَمِنَ السّٰخِرِیْنَۙ
اَنْ تَقُوْلَ : کہ کہے نَفْسٌ : کوئی شخص يّٰحَسْرَتٰى : ہائے افسوس عَلٰي : اس پر مَا فَرَّطْتُّ : جو میں نے کوتاہی کی فِيْ : میں جَنْۢبِ اللّٰهِ : اللہ کا حق وَاِنْ كُنْتُ : اور یہ کہ میں لَمِنَ : البتہ۔ سے السّٰخِرِيْنَ : ہنسی اڑانے والے
سو ان میں سے بعض اس پر ایمان لائے اور بعض نے اس سے رو گردانی کی اور کافی ہے دوزخ کا دہکتی ہوئی آگ ہونا۔
پھر فرمایا (فَمِنْھُمْ مَّنْ اٰمَنَ بِہٖ ) (الایۃ) یعنی ان لوگوں میں سے بعض ایمان لے آئے اور بعض نے اعراض کیا۔ صاحب روح المعانی تحریر فرماتے ہیں کہ اس میں نبی اکرم ﷺ کے لیے تسلی ہے اور مطلب یہ ہے کہ آل ابراہیم کو جو کچھ کتاب و حکمت دی گئی بعض اس پر ایمان لے آئے اور بعض منکر ہوئے اسی طرح آپ کے زمانہ کے لوگ بعض ایسے ہیں جو ایمان لے آئے اور بعض ایسے ہیں جو اعراض کر رہے ہیں۔ یہ پہلے سے ہوتا آیا ہے آپ رنجیدہ نہ ہوں جو لوگ منکر ہیں ان کے لیے دہکتی ہوئی آگ ہے جو ان کے لیے کافی ہے۔ ان کی ساری شرارتوں اور حرکتوں پر انہیں سخت ترین عذاب مل جائے گا۔
Top