Anwar-ul-Bayan - An-Nisaa : 6
فَلَمْ یَزِدْهُمْ دُعَآءِیْۤ اِلَّا فِرَارًا
فَلَمْ يَزِدْهُمْ : تو نہ زیادہ کیا ان کو دُعَآءِيْٓ : میری پکارنے اِلَّا فِرَارًا : مگر فرار میں
اور یتیموں کو بالغ ہونے تک کام کاج میں مصروف رکھو۔ پھر (بالغ ہونے پر) اگر ان میں عقل کی پختگی دیکھو تو ان کا مال ان کے حوالے کردو۔ اور اس خوف سے کہ وہ بڑے ہوجائیں گے (یعنی بڑے ہو کر تم سے اپنا مال واپس لے لیں گے) اس کو فضول خرچی اور جلدی میں نہ اڑا دینا جو شخص آسودہ حال ہو اس کو ایسے مال سے قطعی طور پر پرہیز رکھنا چاہیے اور جو بےمقدور ہو وہ مناسب طور پر (یعنی بقدر خدمت) کچھ لے لے اور جب ان کا مال ان کے حوالے کرنے لگو تو گواہ کرلیا کرو اور حقیقت میں تو خدا ہی (گواہ اور) حساب لینے والا کافی ہے۔
(4:6) ابتلوا۔ تم آزماأ۔ تم امتحان لو۔ ابتلاء (افتعال) سے امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ یعنی تم ان کی آزمائش مختلف طریقوں سے کرتے رہو کہ آیا شعور محکم کو پہنچ گئے ہیں اور اپنے نفع و نقصان کو صحیح طور پر رکھ سکتے ہیں۔ حتی اذا بلغوا النکاح۔ نکاح مصدر ہے اس کے معنی نکاح کرنا یا جماع کرنا دونوں ہیں مطلب اس کا یہ ہے کہ جب وہ بلوغت کو پہنچ جاویں اور سن تمیز کو پالیں۔ رشدا۔ رشد کے معنی ہیں ہدایت۔ صلاحیت۔ راہ یابی۔ بھلائی۔ راستی۔ حسن تدبیر (رشد یرشد کا مصدر ہے) یہاں مراد صلاحیت ہے۔ ادفعوا۔ تم دیدو۔ تم حوالہ کردو۔ دفع سے ۔ امر کا صیغہ مذکر حاضر۔ ولا تاکلوھا۔ یعنی تم خود اس مال سے خرچ مت کرو۔ اسرافا۔ فضول مدوں میں ۔ بدارا۔ جلدی کرکے بروزن فعال۔ مصدر۔ یعنی شتابی اور سرعت سے کام لے کر ان کا مال بےدریغ خرچ نہ کر ڈالو کہ بڑے ہوگئے تو اپنا مال واپس لے لیں گے۔ فلیستعفف۔ امر ۔ واحد مذکر غائب۔ استعفاف (استفعال) مصدر۔ وہ بچتا رہے۔ یعنی یتیموں کے مال خود خرچ کرنے سے پرہیز کرے۔ بالمعروف۔ مناسب مقدار میں۔ حسیبا۔ حساب لینے والا۔ حساب کرنے والا۔ بروزن فعیل بمعنی فاعل ہے۔
Top