Tafseer-al-Kitaab - Al-Baqara : 37
وَ عِنْدَهٗ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لَا یَعْلَمُهَاۤ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ١ؕ وَ مَا تَسْقُطُ مِنْ وَّرَقَةٍ اِلَّا یَعْلَمُهَا وَ لَا حَبَّةٍ فِیْ ظُلُمٰتِ الْاَرْضِ وَ لَا رَطْبٍ وَّ لَا یَابِسٍ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ
وَعِنْدَهٗ : اور اس کے پاس مَفَاتِحُ : کنجیاں الْغَيْبِ : غیب لَا : نہیں يَعْلَمُهَآ : ان کو جانتا اِلَّا : سوا هُوَ : وہ وَيَعْلَمُ : اور جانتا ہے مَا : جو فِي الْبَرِّ : خشکی میں وَالْبَحْرِ : اور تری وَمَا : اور نہیں تَسْقُطُ : گرتا مِنْ : کوئی وَّرَقَةٍ : کوئی پتا اِلَّا : مگر يَعْلَمُهَا : وہ اس کو جانتا ہے وَلَا حَبَّةٍ : اور نہ کوئی دانہ فِيْ : میں ظُلُمٰتِ : اندھیرے الْاَرْضِ : زمین وَلَا رَطْبٍ : اور نہ کوئی تر وَّلَا : اور نہ يَابِسٍ : خشک اِلَّا : مگر فِيْ : میں كِتٰبٍ : کتاب مُّبِيْنٍ : روشن
پھر آدم نے اپنے رب سے (معذرت کے) کچھ کلمات سیکھ لئے تو اللہ نے اس کی توبہ قبول کرلی۔ بیشک وہ بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا اور ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے۔
[32] توبہ کے معنی رجوع کرنے اور پلٹنے کے ہیں۔ بندہ کی طرف سے توبہ کرنے کے معنی یہ ہیں کہ وہ نافرمانی سے باز آگیا اور اطاعت کی طرف پلٹ آیا اور اللہ کی طرف سے توبہ کے معنی یہ ہیں کہ وہ اپنے شرمسار بندے کی طرف رحمت کے ساتھ متوجہ ہوگیا۔
Top