Tafseer-e-Mazhari - Al-Waaqia : 52
لَاٰكِلُوْنَ مِنْ شَجَرٍ مِّنْ زَقُّوْمٍۙ
لَاٰكِلُوْنَ : البتہ کھانے والے ہو مِنْ شَجَرٍ : ایک درخت سے مِّنْ زَقُّوْمٍ : زقوم کے
تھوہر کے درخت کھاؤ گے
تم کو درخت زقوم سے کھانا ہوگا ‘ مِنْ شَجَرِ : میں مِنْ ابتدائیہ ہے مِنْ زَقُوْمٍ : میں مِنْ بیانیہ ‘ یعنی وہ درخت زقوم ہوگا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : زقوم کے درخت سے اگر ایک قطرہ دنیا کے سمندروں میں ٹپکا دیا جائے تو دنیا کی معاش تباہ ہوجائے ‘ پھر ان لوگوں کا کیا حال ہوگا جن کی غذا ہی زقوم ہوگا۔ (رواہ الترمذی والنسائی و ابن ماجہ والحاکم) ترمذی نے اس کو صحیح کہا ہے۔ عمرو خولانی نے کہا : ہم کو اطلاع ملی ہے کہ آدمی درخت زقوم کا جتنا حصہ نوچے گا اتنا ہی حصہ اس کے بدن کا بھی نوچ لیا جائے گا۔ (رواہ عبداللہ بن احمد فی زوائد الزہد و ابو نعیم)
Top