Al-Qurtubi - Al-An'aam : 41
بَلْ اِیَّاهُ تَدْعُوْنَ فَیَكْشِفُ مَا تَدْعُوْنَ اِلَیْهِ اِنْ شَآءَ وَ تَنْسَوْنَ مَا تُشْرِكُوْنَ۠   ۧ
بَلْ : بلکہ اِيَّاهُ : اسی کو تَدْعُوْنَ : تم پکارتے ہو فَيَكْشِفُ : پس کھول دیتا ہے (دور کردیتا ہے) مَا تَدْعُوْنَ : جسے پکارتے ہو اِلَيْهِ : اس کے لیے اِنْ : اگر شَآءَ : وہ چاہے وَتَنْسَوْنَ : اور تم بھول جاتے ہو مَا : جو۔ جس تُشْرِكُوْنَ : تم شریک کرتے ہو
کہو کہ اپنے گواہوں کو لاؤ جو بتائیں کہ خدا نے یہ چیزیں حرام کی ہیں پھر اگر وہ (آکر) گواہی دیں تو تم ان کے ساتھ گواہی نہ دینا اور نہ ان لوگوں کی خواہشوں کی پیروی کرنا جو ہماری آیتوں کو جھٹلاتے ہیں اور جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے اور (بتوں کو) اپنے پروردگار کے برابر ٹھیراتے ہیں۔
(6:150) ہلم۔ اسم فعل بمعنی امر۔ واحد۔ تنبیہ ۔ جمع سب کے لئے آتا ہے تذکیر و تانیث ہر حالت میں ہلم ہی آتا ہے۔ لازم بھی ہے۔ متعدی بھی ہے۔ لاؤ۔ حاضر کرو۔ آؤ۔ آیۃ ہذا میں متعدی استعمال ہوا ہے۔ اور آیۃ 33:18 میں ہلم الینا لازم استعمال ہوا ہے۔ یعدلون ۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کے عدیل (ہمسر) اوروں کو بھی بناتے ہیں۔
Top