Mafhoom-ul-Quran - An-Nisaa : 113
وَ قَالُوْا مَهْمَا تَاْتِنَا بِهٖ مِنْ اٰیَةٍ لِّتَسْحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِیْنَ
وَقَالُوْا : اور وہ کہنے لگے مَهْمَا : جو کچھ تَاْتِنَا بِهٖ : ہم پر تو لائے گا مِنْ اٰيَةٍ : کیسی بھی نشانی لِّتَسْحَرَنَا : کہ ہم پر جادو کرے بِهَا : اس سے فَمَا : تو نہیں نَحْنُ : ہم لَكَ : تجھ پر بِمُؤْمِنِيْنَ : ایمان لانے والے نہیں
(اے نبی ﷺ ! ) اگر اللہ کا فضل آپ پر نہ ہوتا اور اس کی رحمت آپ کے شامل حال نہ ہوتی تو ان میں سے ایک گروہ نے تو آپ کو بہکانے کا فیصلہ کر ہی لیا تھا، حالانکہ وہ خود بہک گئے ہیں اور وہ آپ کا کوئی نقصان نہیں کرسکتے۔ اللہ نے تم پر کتاب اور حکمت نازل کی ہے اور آپ کو وہ کچھ سکھایا ہے جو آپ کو معلوم نہ تھا اور اللہ کا آپ پر بہت بڑا فضل ہے
نبی کریم ﷺ کی معصومیت اور رحمت الٰہی تشریح : اس آیت میں پچھلی آیات کا واقعہ اس صورت سے دہرایا جارہا ہے کہ طعمہ اور اس کے حامی بیشک منصف، یعنی آپ ﷺ کو بہکانے میں کافی حد تک کامیاب ہوگئے تھے۔ مسئلہ یہی ہے کہ غلط گواہی اور جھوٹ کا سہارا لے کر منصف کو تو غلط فیصلہ پر مجبور کیا جاسکتا ہے تو اس میں منصف سے زیادہ جھوٹے گواہوں کی پکڑ ہوسکتی ہے لیکن آپ ﷺ کیونکہ اللہ کے نبی ہیں آپ ﷺ کی راہنمائی اور فریب سے بچاؤ اللہ رب العزت کی ذمہ داری ہے۔ اس نے آپ ﷺ کو قرآن و حکمت کے ذریعے سے حقیقت حال سے آگاہ کردیا اور یوں آپ ﷺ غلط فیصلہ کرنے سے بچ گئے اور یہ اللہ رب العزت کی طرف سے آپ ﷺ پر بہت بڑی مہربانی اور فضل و کرم ہے اور یہ اس لیے کہ آپ ﷺ عام لوگوں میں سب سے زیادہ محترم و مکرم ہیں۔ حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” میں لوگوں میں سب سے پہلا ہوں گا جو جنت میں شفاعت کروں گا اور تمام انبیاء سے زیادہ میرے پیرو ہوں گے۔ “
Top