Madarik-ut-Tanzil - Az-Zumar : 32
وَ اٰتُوا الْیَتٰمٰۤى اَمْوَالَهُمْ وَ لَا تَتَبَدَّلُوا الْخَبِیْثَ بِالطَّیِّبِ١۪ وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَهُمْ اِلٰۤى اَمْوَالِكُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ حُوْبًا كَبِیْرًا
وَاٰتُوا : اور دو الْيَتٰمٰٓى : یتیم (جمع) اَمْوَالَھُمْ : ان کے مال وَلَا : اور نہ تَتَبَدَّلُوا : بدلو الْخَبِيْثَ : ناپاک بِالطَّيِّبِ : پاک سے وَلَا : اور نہ تَاْكُلُوْٓا : کھاؤ اَمْوَالَھُمْ : ان کے مال اِلٰٓى : طرف (ساتھ) اَمْوَالِكُمْ : اپنے مال اِنَّهٗ : بیشک كَانَ : ہے حُوْبًا : گناہ كَبِيْرًا : بڑا
تو اس سے بڑھ کر ظالم کون جو خدا پر جھوٹ بولے اور سچی بات جب اس کے پاس پہنچ جائے تو اسے جھٹلائے کیا جہنم میں کافروں کا ٹھکانا نہیں ؟
فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَبَ عَلَي اللّٰهِ (اس شخص سے بڑھ کر بےانصاف کون ہوگا) اور والذی جاء بالصدق وصد بہ (الزمر :33) یہ درحقیقت ان لوگوں کی وضاحت و تفسیر ہے جن کے مابین یہ خصومت پیش آئے گی۔ ممن کذب علی اللہ (جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھے) اللہ تعالیٰ کا شریک بنا کر یا بیٹے کی نسبت اس کی طرف کر کے۔ وَكَذَّبَ بِالصِّدْقِ (اور سچی بات کو جھٹلائے) وہ معاملہ جو بعینہ سچائی ہے اور وہ وہی ہے جس کو محمد ﷺ لے کر تشریف لائے ہیں۔ اِذْ جَاۗءَهٗ (جبکہ وہ اس کے پاس پہنچے) پس اس نے سن کر بلاتوقف تکذیب کردی اس نے اہل انصاف کی طرح حق و باطل میں تمیز کیلئے اہتمام رویہ سے کام نہیں لیا۔ اَلَيْسَ فِيْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْكٰفِرِيْنَ (کیا جہنم میں ایسے کافروں کا ٹھکانہ نہ ہوگا) ان لوگوں کا جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے متعلق جھوٹ بولا اور سچ کی تکذیب کردی۔ للکافرین کی لام ان کی طرف اشارہ کرنے کیلئے ہے۔
Top