تفسیر ابنِ کثیر
Tafseer Ibn-e-Kaseer · 9. At-Tawba · Ayah 124
وَ اِذَا مَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ فَمِنْهُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ اَیُّكُمْ زَادَتْهُ هٰذِهٖۤ اِیْمَانًا١ۚ فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَزَادَتْهُمْ اِیْمَانًا وَّ هُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَ﴿124﴾
- وَاِذَا مَآاور جب
- اُنْزِلَتْنازل کی جاتی ہے
- سُوْرَةٌکوئی سورة
- فَمِنْھُمْتو ان میں سے
- مَّنْبعض
- يَّقُوْلُکہتے ہیں
- اَيُّكُمْتم میں سے کسی
- زَادَتْهُزیادہ کردیا اس کا
- هٰذِهٖٓاس نے
- اِيْمَانًاایمان
- فَاَمَّاسو جو
- الَّذِيْنَوہ لوگ جو
- اٰمَنُوْاوہ ایمان لائے
- فَزَادَتْھُمْاس نے زیادہ کردیا ان کا
- اِيْمَانًاایمان
- وَّھُمْاور وہ
- يَسْتَبْشِرُوْنَخوشیاں مناتے ہیں
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
اور جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے تو بعض منافق (استہزاء کرتے اور) پوچھتے کہ اس سورت نے تم میں سے کس کا ایمان زیادہ کیا ہے۔ سو جو ایمان والے ہیں ان کا ایمان تو زیادہ کیا اور وہ خوش ہوتے ہیں
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
فرمان الہٰی میں شک و شبہ کفر کا مرض ہے
قرآن کی کوئی سورت اتری اور منافقوں نے آپس میں کانا پھوسی شروع کی کہ بتاؤ اس سورت نے کس کا ایمان زیادہ کردیا ؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایمانداروں کے ایمان تو اللہ کی آیتیں بڑھا دیتی ہیں۔ یہ آیت بہت بڑی دلیل ہے اس پر کہ ایمان گھٹتا بڑھتا رہتا ہے۔ اکثر ائمہ اور علماء کا یہی مذہب ہے، سلف کا بھی اور خلف کا بھی۔ بلکہ بہت سے بزرگوں نے اس پر اجماع نقل کیا ہے۔ ہم اس مسئلے کو خوب تفصیل سے شرح بخاری کے شروع میں بیان کر آئے ہیں۔ ہاں جن کے دل پہلے ہی سے شک و شبہ کی بیماری میں ہیں ان کی خرابی اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ قرآن مومنوں کے لیے شفا اور رحمت ہے لیکن کافر تو اس سے اور بھی اپنا نقصان کرلیا کرتے ہیں۔ یہ ایمانداروں کے لئے ہدایت و شفا ہے بےایمانوں کے تو کانوں میں بوجھ ہے۔ ان کی آنکھوں پر اندھاپا ہے وہ تو بہت ہی فاصلے سے پکارے جا رہے ہیں۔ یہ بھی کتنی بڑی بدبختی ہے کہ دلوں کی ہدایت کی چیز بھی ان کی ضلالت و ہلاکت کا باعث بنتی ہے۔ اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے عمدہ غذا بھی بد مزاج کو موافق نہیں آتی۔