تفسیر ابنِ کثیر
Tafseer Ibn-e-Kaseer · 7. Al-A'raaf · Ayah 33
قُلْ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّیَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ مَا بَطَنَ وَ الْاِثْمَ وَ الْبَغْیَ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ اَنْ تُشْرِكُوْا بِاللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا وَّ اَنْ تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ﴿33﴾
- قُلْفرما دیں
- اِنَّمَاصرف (تو)
- حَرَّمَحرام کیا
- رَبِّيَمیرا رب
- الْفَوَاحِشَبےحیائی
- مَاجو
- ظَهَرَظاہر ہیں
- مِنْهَاان سے
- وَمَااور جو
- بَطَنَپوشیدہ
- وَالْاِثْمَاور گناہ
- وَالْبَغْيَاور سرکشی
- بِغَيْرِ الْحَقِّناحق کو
- وَاَنْاور یہ کہ
- تُشْرِكُوْاتم شریک کرو
- بِاللّٰهِاللہ کے ساتھ
- مَاجو۔ جس
- لَمْ يُنَزِّلْنہیں نازل کی
- بِهٖاس کی
- سُلْطٰنًاکوئی سند
- وَّاَنْاور یہ کہ
- تَقُوْلُوْاتم کہو (لگاؤ)
- عَلَيپر
- اللّٰهِاللہ
- مَاجو
- لَا تَعْلَمُوْنَتم نہیں جانتے
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
کہہ دو کہ میرے پروردگار نے تو بےحیائی کی باتوں کو ظاہر ہوں یا پوشیدہ اور گناہ کو اور ناحق زیادتی کرنے کو حرام کیا ہے۔ اور اس کو بھی کہ تم کسی کو خدا کا شریک بناؤ جس کی اس نے کوئی سند نازل نہیں کی اور اس کو بھی کہ خدا کے بارے میں ایسی باتیں کہو جن کا تمہیں کچھ علم نہیں
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
بخاری مسلم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اللہ سے زیادہ غیرت والا کوئی نہیں۔ سورة انعام میں چھپی کھلی بےحیائیوں کے متعلق پوری تفسیر گذر چکی ہے اور اللہ تعالیٰ نے ہر گناہ کو حرام کردیا ہے اور ناحق ظلم وتعدی، سرکشی اور غرور کو بھی اس نے حرام کیا ہے پس اثم سے مراد ہر وہ گناہ ہے جو انسان آپ کرے اور بغی سے مراد وہ گناہ ہے جس میں دوسرے کا نقصان کرے یا اس کی حق تلفی کرے۔ اسی طرح رب کی عبادت میں کسی کو شریک کرنا بھی حرام ہے اور ذات حق پر بہتان باندھنا بھی۔ مثلاً اس کی اولاد بتانا وغیرہ۔ خلاف واقعہ باتیں بھی جہالت کی باتیں ہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت (فاجتنبوا الرجس من الا وثان) الخ، بتوں کی نجاست سے بچو، الخ۔