تفسیر ابنِ کثیر
Tafseer Ibn-e-Kaseer · 7. Al-A'raaf · Ayah 152
اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ سَیَنَالُهُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ ذِلَّةٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُفْتَرِیْنَ﴿152﴾
- اِنَّبیشک
- الَّذِيْنَوہ لوگ جو
- اتَّخَذُواانہوں نے بنالیا
- الْعِجْلَبچھڑا
- سَيَنَالُهُمْعنقریب انہیں پہنچے گا
- غَضَبٌغضب
- مِّنْ رَّبِّهِمْان کے رب کا
- وَذِلَّةٌاور ذلت
- فِيمیں
- الْحَيٰوةِزندگی
- الدُّنْيَادنیا
- وَكَذٰلِكَاور اسی طرح
- نَجْزِيہم سزا دیتے ہیں
- الْمُفْتَرِيْنَبہتان باندھنے والے
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
(خدا نے فرمایا کہ) جن لوگوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا تھا ان پر پروردگار کا غضب واقع ہوگا اور دنیا کی زندگی میں ذلت (نصیب ہوگی) اور ہم افتراء پردازوں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
باہم قتل کی سزا
ان گو سالہ پر ستوں پر اللہ کا غضب نازل ہوا۔ جب تک ان لوگوں نے آپس میں ایک دوسرے کو قتل نہ کرلیا ان کی توبہ قبول نہ ہوئی جیسے کہ سورة بقرہ کی تفسیر میں تفصیل وار بیان ہوچکا ہے کہ انہیں حکم ہوا تھا کہ اپنے خالق سے توبہ کرو اور آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرو یہی تمہارے حق میں ٹھیک ہے پھر وہ تمہاری توبہ قبول فرمائے گا وہ توبہ قبول کرنے والا اور رحم و کرم والا ہے۔ اسی طرح دنیا میں بھی ان یہودیوں پر ذلت نازل ہوئی۔ ہر بدعتی کی جو اللہ کے دین میں جھوٹا طوفان اٹھائے یہی سزا ہے۔ رسول کی مخالفت اور بدعت کا بوجھ اس کے دل سے نکل کر اس کے کندھوں پر آپڑتا ہے۔ حسن بصری فرماتے ہیں گو وہ دنیوی ٹھاٹھ رکھتا ہو لیکن ذلت اس کے چہرے پر برستی ہے۔ قیامت تک یہی سزا ہر جھوٹے افترا باز کی اللہ کی طرف سے مقرر ہے۔ حضرت سفیان بن عینیہ فرماتے ہیں کہ ہر بدعتی ذلیل ہے۔ پھر فرماتے ہے کہ اللہ توبہ قبول کرنے والا ہے خواہ کیسا ہی گناہ ہو لیکن توبہ کے بعد وہ معاف فرما دیتا ہے گو کفر و شرک اور نفاق و شفاق ہی کیوں نہ ہو۔ فرمان ہے کہ جو لوگ برائیوں کے بعد توبہ کرلیں اور ایمان لائیں تو اے رسول رحمت اور اے نبی نور (یعنی قرآن) تیرا رب اس فعل کے بعد بھی غفور و رحیم ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ سے سوال ہوا کہ اگر کوئی شخص کسی عورت سے زناکاری کرے پھر اس سے نکاح کرلے تو ؟ آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی کوئی دس دس مرتبہ اسے تلاوت کیا اور کوئی حکم یا منع نہیں کیا۔