تفسیر ابنِ کثیر
Tafseer Ibn-e-Kaseer · 7. Al-A'raaf · Ayah 103
ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ مُّوْسٰى بِاٰیٰتِنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَظَلَمُوْا بِهَا١ۚ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ﴿103﴾
- ثُمَّپھر
- بَعَثْنَاہم نے بھیجا
- مِنْۢ بَعْدِهِمْان کے بعد
- مُّوْسٰيموسیٰ
- بِاٰيٰتِنَآاپنی نشانیوں کے ساتھ
- اِلٰىطرف
- فِرْعَوْنَفرعون
- وَمَلَا۟ئِهٖاور اس کے سردار
- فَظَلَمُوْاتو انہوں نے ظلم (انکار کیا)
- بِهَاان کا
- فَانْظُرْسو تم دیکھو
- كَيْفَکیا
- كَانَہوا
- عَاقِبَةُانجام
- الْمُفْسِدِيْنَفساد کرنے والے
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
پھر ان (پیغمبروں) کے بعد ہم نے موسیٰ کو نشانیاں دے کر فرعون اور اس کے اعیانِ سلطنت کے پاس بھیجا تو انہوں نے ان کے ساتھ کفر کیا۔ سو دیکھ لو کہ خرابی کرنے والوں کا انجام کیا ہوا
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
نابکار لوگوں کا تذکرہ۔ انبیاء اور مومنین پر نظر کرم
جن رسولون کا ذکر گذر چکا ہے یعنی نوح، ہود، صالح، لوط، شعیب صلوات اللہ وسلامہ علیھم وعلی سائر الانبیاء اجمعین کے بعد ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام) کو اپنی دلیلیں عطا فرما کر بادشاہ مصر (فرعون) اور اس کی قوم کی طرف بھیجا۔ لیکن انہوں نے بھی جھٹلایا اور ظلم و زیادتی کی اور صاف انکار کردیا حالانکہ ان کے دلوں میں یقین گھر کرچکا تھا۔ اب آپ دیکھ لو کہ اللہ کی راہ سے رکنے والوں اور اس کے رسولوں کا انکار کرنے والوں کا کیا انجام ہوا ؟ وہ مع اپنی قوم کے ڈبو دیئے گئے اور پھر لطف یہ ہے کہ مومنوں کے سامنے بےکسی کی پکڑ میں پکڑ لئے گئے تاکہ ان کے دل ٹھنڈے ہوں اور عبرت ہو۔