تفسیر ابنِ کثیر

Tafseer Ibn-e-Kaseer · 68. Al-Qalam · Ayah 34

  1. اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ﴿34﴾

    1. اِنَّ لِلْمُتَّقِيْنَبیشک متقی لوگوں کے لیے
    2. عِنْدَ رَبِّهِمْان کے رب کے نزدیک
    3. جَنّٰتِباغات ہیں
    4. النَّعِيْمِنعمتوں والے
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
پرہیزگاروں کے لئے ان کے پروردگار کے ہاں نعمت کے باغ ہیں
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
گنہگار اور نیکو کار دونوں کی جزاء کا مختلف ہونا لازم ہے اوپر چونکہ دنیوی جنت والوں کا حال بیان ہوا تھا اور اللہ کی نافرمانی اور اس کے حکم کے خلاف کرنے سے ان پر جو بلا اور آفت آئی اس کا ذکر ہوا تھا اس لئے اب ان متقی پرہیزگار لوگوں کا حال ذکر کیا گیا جنہیں آخرت میں جنتیں ملیں گی جن کی نعمتیں نہ فنا ہوں، نہ گھٹیں، نہ ختم ہوں، نہ سڑیں، نہ گلیں، پھر فرماتا ہے کیا ہوسکتا ہے کہ مسلمان اور گنہگار جزا میں یکساں ہوجائیں ؟ قسم ہے زمین و آسمان کے رب کی کہ یہ نہیں ہوسکتا، کیا ہوگیا ہے تم کس طرح یہ چاہتے ہو ؟ کیا تمہارے ہاتھوں میں اللہ کی طرف سے اتری ہوئی کوئی ایسی کتاب ہے جو خود تمہیں بھی محفوظ ہو اور گزشتہ لوگوں کے ہاتھوں تم پچھلوں تک پہنچتی ہو اور اس میں وہی ہو جو تمہاری چاہت ہے اور تم کہہ رہے ہو کہ ہمارا کوئی مضبوط وعدہ اور عہد تم سے ہے کہ تم جو کہہ رہے ہو وہی ہوگا اور تمہاری بےجا اور غلط خواہشیں پوری ہو کر ہی رہیں گی ؟ ان سے ذرا پوچھو تو کہ اس بات کا کون ضامن ہے اور کس کے ذمے یہ کفالت ہے ؟ نہ سہی تمہارے جو جھوٹے معبود ہیں انہی کو اپنی سچائی کے ثبوت میں پیش کرو۔