تفسیر ابنِ کثیر

Tafseer Ibn-e-Kaseer · 6. Al-An'aam · Ayah 14

  1. قُلْ اَغَیْرَ اللّٰهِ اَتَّخِذُ وَلِیًّا فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ هُوَ یُطْعِمُ وَ لَا یُطْعَمُ١ؕ قُلْ اِنِّیْۤ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَسْلَمَ وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ﴿14﴾

    1. قُلْآپ کہ دیں
    2. اَغَيْرَکیا سوائے
    3. اللّٰهِاللہ
    4. اَتَّخِذُمیں بناؤں
    5. وَلِيًّاکارساز
    6. فَاطِرِبنانے والا
    7. السَّمٰوٰتِآسمان (جمع)
    8. وَالْاَرْضِزمین
    9. وَهُوَاور وہ
    10. يُطْعِمُکھلاتا ہے
    11. وَلَا يُطْعَمُاور وہ کھاتا نہیں
    12. قُلْآپ کہ دیں
    13. اِنِّىْٓ اُمِرْتُبیشک مجھ کو حکم دیا گیا
    14. اَنْکہ
    15. اَكُوْنَمیں ہوجاؤں
    16. اَوَّلَسب سے پہلا
    17. مَنْجو۔ جس
    18. اَسْلَمَحکم مانا
    19. وَاور
    20. لَا تَكُوْنَنَّتو ہرگز نہ ہو
    21. مِنَسے
    22. الْمُشْرِكِيْنَشرک کرنے والے
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
کہو کیا میں خدا کو چھوڑ کر کسی اور کو مددگار بناؤں کہ (وہی تو) آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے اور وہی (سب کو) کھانا دیتا ہے اور خود کسی سے کھانا نہیں لیتا (یہ بھی) کہہ دو کہ مجھے یہ حکم ہوا ہے کہ میں سب سے پہلے اسلام لانے والا ہوں اور یہ کہ تم (اے پیغمبر!) مشرکوں میں نہ ہونا