تفسیر ابنِ کثیر
Tafseer Ibn-e-Kaseer · 39. Az-Zumar · Ayah 24
اَفَمَنْ یَّتَّقِیْ بِوَجْهِهٖ سُوْٓءَ الْعَذَابِ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ قِیْلَ لِلظّٰلِمِیْنَ ذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ﴿24﴾
- اَفَمَنْکیا۔ پس۔ جو
- يَّتَّقِيْبچاتا ہے
- بِوَجْهِهٖاپنا چہرہ
- سُوْٓءَ الْعَذَابِبرے عذاب سے
- يَوْمَ الْقِيٰمَةِ ۭقیامت کے دن
- وَقِيْلَاور کہا جائے گا
- لِلظّٰلِمِيْنَظالموں کو
- ذُوْقُوْاتم چکھو
- مَاجو
- كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَتم کماتے (کرتے) تھے
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
بھلا جو شخص قیامت کے دن اپنے منہ سے برے عذاب کو روکتا ہو (کیا وہ ویسا ہوسکتا ہے جو چین میں ہو) اور ظالموں سے کہا جائے گا کہ جو کچھ تم کرتے رہے تھے اس کے مزے چکھو
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
ایک وہ جسے اس ہنگامہ خیز دن میں امن وامان حاصل ہو اور ایک وہ جسے اپنے منہ پر عذاب کے تھپڑ کھانے پڑتے ہوں برابر ہوسکتے ہیں ؟ جیسے فرمایا اوندھے منہ، منہ کے بل چلنے والا اور راست قامت اپنے پیروں سیدھی راہ چلتے والا برابر نہیں۔ ان کفار کو تو قیامت کے دن اوندھے منہ گھسیٹا جائے گا اور کہا جائے گا کہ آگ کا مزہ چکھو۔ ایک اور آیت میں ہے جہنم میں داخل کیا جانے والا بدنصیب اچھا یا امن وامان سے قیامت کا دن گذارنے والا اچھا ؟ یہاں اس آیت کا مطلب یہی ہے لیکن ایک قسم کا ذکر کر کے دوسری قسم کے بیان کو چھوڑ دیا کیونکہ اسی سے وہ بھی سمجھ لیا جاتا ہے یہ بات شعراء کے کلام میں برابر پائی جاتی ہے۔ اگلے لوگوں نے بھی اللہ کی باتوں کو نہ مانا تھا اور رسولوں کو جھوٹا کہا تھا پھر دیکھو کہ ان پر کس طرح ان کی بیخبر ی میں مار پڑی ؟ عذاب اللہ نے انہیں دنیا میں بھی ذلیل و خوار کیا اور آخرت کے سخت عذاب بھی ان کے لئے باقی ہیں۔ پس تمہیں ڈرتے رہنا چاہئے کہ اشرف رسل کے ستانے اور نہ ماننے کی وجہ سے تم پر کہیں ان سے بھی بدتر عذاب برس نہ پڑیں۔ تم اگر ذی علم ہو تو ان کے حالات اور تذکرے تمہاری نصیحت کے لئے کافی ہیں۔