تفسیر ابنِ کثیر

Tafseer Ibn-e-Kaseer · 35. Faatir · Ayah 3

  1. یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ١ؕ هَلْ مِنْ خَالِقٍ غَیْرُ اللّٰهِ یَرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۖ٘ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ﴿3﴾

    1. يٰٓاَيُّهَا النَّاسُاے لوگو
    2. اذْكُرُوْاتم یاد کرو
    3. نِعْمَتَ اللّٰهِاللہ کی نعمت
    4. عَلَيْكُمْ ۭاپنے اوپر
    5. هَلْکیا
    6. مِنْ خَالِقٍکوئی پیدا کرنے والا
    7. غَيْرُ اللّٰهِاللہ کے سوا
    8. يَرْزُقُكُمْوہ تمہیں رزق دیتا ہے
    9. مِّنَ السَّمَآءِآسمان سے
    10. وَالْاَرْضِ ۭاور زمین
    11. لَآنہیں
    12. اِلٰهَکوئی معبود
    13. اِلَّا هُوَ ڮاس کے سوا
    14. فَاَنّٰىتو کہاں
    15. تُؤْفَكُوْنَالٹے پھرے جاتے ہو تم
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
لوگو خدا کے جو تم پر احسانات ہیں ان کو یاد کرو۔ کیا خدا کے سوا کوئی اور خالق (اور رازق ہے) جو تم کو آسمان اور زمین سے رزق دے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں پس تم کہاں بہکے پھرتے ہو؟
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
اس بات کی دلیل یہاں ہو رہی ہے کہ عبادتوں کے لائق صرف اللہ ہی کی ذات ہے کیونکہ خالق و رازق صرف وہی ہے۔ پھر اس کے سوا دوسروں کی عبادت کرنا فاش غلطی ہے۔ دراصل اس کے سوا لائق عبادت اور کوئی نہیں۔ پھر تم اس واضح دلیل اور ظاہر برہان کے بعد کیسے بہک رہے ہو ؟ اور دوسروں کی عبادت کی طرف جھکے جاتے ہو ؟ واللہ اعلم۔
Tafseer Ibn-e-Kaseer - 35 : 3