تفسیر ابنِ کثیر
Tafseer Ibn-e-Kaseer · 35. Faatir · Ayah 2
مَا یَفْتَحِ اللّٰهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَّحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا١ۚ وَ مَا یُمْسِكْ١ۙ فَلَا مُرْسِلَ لَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ﴿2﴾
- مَا يَفْتَحِجو کھول دے
- اللّٰهُاللہ
- لِلنَّاسِلوگوں کے لیے
- مِنْ رَّحْمَةٍرحمت سے
- فَلَا مُمْسِكَتو بند کرنے والا انہیں
- لَهَا ۚاس کا
- وَمَا يُمْسِكْ ۙاور جو وہ بند کردے
- فَلَا مُرْسِلَتو کوئی بھیجنے والا نہیں
- لَهٗاس کا
- مِنْۢ بَعْدِهٖ ۭاس کے بعد
- وَهُوَاور وہ
- الْعَزِيْزُغالب
- الْحَكِيْمُحکمت والا
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
خدا جو اپنی رحمت (کا دروازہ) کھول دے تو کوئی اس کو بند کرنے والا نہیں۔ اور جو بند کردے تو اس کے بعد کوئی اس کو کھولنے والا نہیں۔ اور وہ غالب حکمت والا ہے
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
اللہ تعالیٰ کا چاہا ہوا سب کچھ ہو کر رہتا ہے بغیر اس کی چاہت کے کچھ بھی نہیں ہوتا۔ جو وہ دے اسے کوئی روکنے والا نہیں۔ اور جسے وہ روک لے اسے کوئی دینے والا نہیں۔ نماز فرض کے سلام کے بعد اللہ کے رسول ﷺ ہمیشہ یہ کلمات پڑھتے۔ اور حضور ﷺ فضول گوئی اور کثرت سوال اور مال کی بربادی سے منع فرماتے تھے اور آپ لڑکیوں کو زندہ درگور کرنے اور ماؤں کی نافرنیاں کرنے اور خود لینے اور دوسروں کو نہ دینے سے بھی روکتے تھے (بخاری۔ مسلم وغیرہ) صحیح مسلم شریف میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ رکوع سے سر اٹھاتے ہوئے اسی آیت جیسی آیت (وَاِنْ يَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗٓ اِلَّا هُوَ ۭ وَاِنْ يَّمْسَسْكَ بِخَيْرٍ فَهُوَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ 17) 6۔ الانعام :17) ہے۔ اور بھی اس کی نظیر کی آیتیں بہت سی ہیں۔ حضرت امام مالک ؒ فرماتے ہیں کہ بارش برستی تو حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہم پر فتح کے تارے سے بارش برسائی گئی۔ پھر اسی آیت کی تلاوت کرتے (ابن ابی حاتم)