تفسیر ابنِ کثیر

Tafseer Ibn-e-Kaseer · 28. Al-Qasas · Ayah 18

  1. فَاَصْبَحَ فِی الْمَدِیْنَةِ خَآئِفًا یَّتَرَقَّبُ فَاِذَا الَّذِی اسْتَنْصَرَهٗ بِالْاَمْسِ یَسْتَصْرِخُهٗ١ؕ قَالَ لَهٗ مُوْسٰۤى اِنَّكَ لَغَوِیٌّ مُّبِیْنٌ﴿18﴾

    1. فَاَصْبَحَپس صبح ہوئی اس کی
    2. فِي الْمَدِيْنَةِشہر میں
    3. خَآئِفًاڈرتا ہوا
    4. يَّتَرَقَّبُانتظار کرتا ہوا
    5. فَاِذَا الَّذِيتو ناگہاں وہ جس
    6. اسْتَنْصَرَهٗاس نے مددمانگی تھی اس سے
    7. بِالْاَمْسِکل
    8. يَسْتَصْرِخُهٗوہ (پھر) اس سے فریاد کر رہا ہے
    9. قَالَکہا
    10. لَهٗاس کو
    11. مُوْسٰٓىموسیٰ
    12. اِنَّكَبیشک تو
    13. لَغَوِيٌّالبتہ گمراہ
    14. مُّبِيْنٌکھلا
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
الغرض صبح کے وقت شہر میں ڈرتے ڈرتے داخل ہوئے کہ دیکھیں (کیا ہوتا ہے) تو ناگہاں وہی شخص جس نے کل اُن سے مدد مانگی تھی پھر اُن کو پکار رہا ہے۔ موسٰی نے اس سے کہا کہ تُو تو صریح گمراہ ہے
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
جسے بچایا اسی نے راز کھولا موسیٰ کے گھونسے سے قبطی مرگیا تھا اس لئے آپ کی طبیعیت پر گھبراہٹ تھی۔ شہر میں ڈرتے دبکتے آئے کہ دیکھیں کیا باتیں ہو رہی ہیں ؟ کہیں راز کھل تو نہیں گیا۔ دیکھتے ہیں کہ کل والا اسرائیلی آج ایک اور قبطی سے لڑ رہا ہے۔ آپ کو دیکھتے ہی کل کی طرح آج بھی فریاد اور دہائی دینے لگا۔ آپ نے فرمایا تم بڑے فتنہ آدمی ہو۔ یہ سنتے ہی وہ گھبرا گیا۔ جب حضرت موسیٰ نے اس ظالم قبطی کو روکنے کے لئے اس کی طرف ہاتھ بڑھانا چاہا تو یہ شخص اپنے کمینہ پن اور بزدلی سے سمجھ بیٹھا کہ آپ نے مجھے برا کہا ہے اور مجھے پکڑنا چاہتے ہیں اپنی جان بچانے کے لئے شور مچانا شروع کردیا کہ موسیٰ کیا جیسے تو نے کل ایک شخص کا خون کیا تھا آج میری جان بھی لینا چاہتا ہے ؟ کل کا واقعہ صرف اسی کی موجودگی میں ہوا تھا اس لئے اب تک کسی کو پتہ نہ چلا تھا ؟ لیکن آج اس کی زبان سے اس قبطی کو پتہ چلا کہ یہ کام موسیٰ کا ہے۔ اس بزدل ڈرپوک نے یہ بھی ساتھ ہی کہا کہ تو زمین پر سرکش بن کر رہنا چاہتا ہے اور تیری طبعیت میں ہی صلح پسندی نہیں۔ قبطی یہ سن کر بھاگا دوڑا دربار فرعونی میں پہنچا اور وہاں مخبری کی۔ فرعون کی بددلی کی اب کوئی حد نہ رہی اور فورا سپاہی دوڑائے کہ موسیٰ کو لاکر پیش کریں۔