تفسیر ابنِ کثیر
Tafseer Ibn-e-Kaseer · 24. An-Noor · Ayah 41
اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُسَبِّحُ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الطَّیْرُ صٰٓفّٰتٍ١ؕ كُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَهٗ وَ تَسْبِیْحَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَفْعَلُوْنَ﴿41﴾
- اَلَمْ تَرَکیا تونے نہیں دیکھا
- اَنَّ اللّٰهَکہ اللہ
- يُسَبِّحُپاکیزگی بیان کرتا ہے
- لَهٗاس کی
- مَنْجو
- فِي السَّمٰوٰتِآسمانوں میں
- وَالْاَرْضِاور زمین
- وَالطَّيْرُاور پرندے
- صٰٓفّٰتٍپر پھیلائے ہوئے
- كُلٌّہر ایک
- قَدْ عَلِمَجان لی
- صَلَاتَهٗاپنی دعا
- وَتَسْبِيْحَهٗاور اپنی تسبیح
- وَاللّٰهُاور اللہ
- عَلِيْمٌجانتا ہے
- بِمَاوہ جو
- يَفْعَلُوْنَوہ کرتے ہیں
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جو لوگ آسمانوں اور زمین میں ہیں خدا کی تسبیح کرتے ہیں اور پر پھیلائے ہوئے جانور بھی۔ اور سب اپنی نماز اور تسبیح کے طریقے سے واقف ہیں۔ اور جو کچھ وہ کرتے ہیں (سب) خدا کو معلوم ہے
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
ہر ایک تسبیح خوان ہے
کل کے کل انسان، جنات، فرشتے اور حیوان یہاں تک کہ جمادات بھی اللہ کی تسبیح کے بیان میں مشغول ہیں۔ ایک اور جگہ ہے کہ ساتوں آسمان اور سب زمینیں اور ان میں جو ہیں سب اللہ کی پاکیزگی کی بیان میں مشغول ہیں۔ اپنے پروں سے اڑنے والے پرند بھی اپنے رب کی عبادت اور پاکیزگی کے بیان میں مشغول ہیں۔ ان سب کو جو جو تسبیح لائق تھی اللہ نے انہیں سکھا دی ہے، سب کو اپنی عبادت کے مختلف جداگانہ طریقے سکھا دئے ہیں اور اللہ پر کوئی کام مخفی نہیں، وہ عالم کل ہے۔ حاکم، متصرف، مالک، مختار کل، معبود حقیقی، آسمان و زمین کا بادشاہ صرف وہی ہے۔ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، اس کے حکموں کو کوئی ٹالنے والا نہیں۔ قیامت کے دن سب کو اسی کے سامنے حاضر ہونا ہے، وہ جو چاہے گا اپنی مخلوقات میں حکم فرمائے گا۔ برے لوگ برا بدلہ پائیں گے۔ نیک نیکیوں کا پھل حاصل کریں گے۔ خالق مالک وہی ہے، دنیا اور آخرت کا حاکم حقیقی وہی ہے اور اسی کی ذات لائق حمد وثنا ہے۔