تفسیر ابنِ کثیر

Tafseer Ibn-e-Kaseer · 24. An-Noor · Ayah 19

  1. اِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِیْعَ الْفَاحِشَةُ فِی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ١ۙ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ﴿19﴾

    1. اِنَّبیشک
    2. الَّذِيْنَجو لوگ
    3. يُحِبُّوْنَپسند کرتے ہیں
    4. اَنْکہ
    5. تَشِيْعَپھیلے
    6. الْفَاحِشَةُبےحیائی
    7. فِي الَّذِيْنَمیں جو
    8. اٰمَنُوْاایمان لائے (مومن)
    9. لَهُمْان کے لیے
    10. عَذَابٌعذاب
    11. اَلِيْمٌدردناک
    12. فِي الدُّنْيَادنیا میں
    13. وَالْاٰخِرَةِاور آخرت میں
    14. وَاللّٰهُاور اللہ
    15. يَعْلَمُجانتا ہے
    16. وَاَنْتُمْاور تم
    17. لَا تَعْلَمُوْنَتم نہیں جانتے
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
اور جو لوگ اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ مومنوں میں بےحیائی یعنی (تہمت بدکاری کی خبر) پھیلے ان کو دنیا اور آخرت میں دکھ دینے والا عذاب ہوگا۔ اور خدا جانتا ہے اور تم نہیں جانتے
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
برائی کی تشہیر نہ کرو یہ تیسری تنبیہ ہے کہ جو شخص کوئی ایسی بات سنے، اسے اس کا پھیلانا حرام ہے جو ایسی بری خبروں کو اڑاتے پھیرتے ہیں۔ دنیوی سزا یعنی حد بھی لگے گی اور اخروی سزا یعنی عذاب جہنم بھی ہوگا۔ اللہ تعالیٰ عالم ہے، تم بےعلم ہو، پس تمہیں اللہ کی طرف تمام امور لوٹانے چاہئیں۔ حدیث شریف میں ہے بندگان اللہ کو ایذاء نہ دو ، انہیں عار نہ دلاؤ۔ ان کی خفیہ باتوں کی ٹوہ میں نہ لگے رہو۔ جو شخص اپنے مسلمان بھائی کے عیوب ٹٹولے گا۔ اللہ اس کے عیبوں کے پیچھے پڑجائے گا اور اسے یہاں تک رسوا کرے گا کہ اس کے گھر والے بھی اسے بری نظر سے دیکھنے لگیں گے۔