تفسیر ابنِ کثیر
Tafseer Ibn-e-Kaseer · 17. Al-Israa · Ayah 40
اَفَاَصْفٰىكُمْ رَبُّكُمْ بِالْبَنِیْنَ وَ اتَّخَذَ مِنَ الْمَلٰٓئِكَةِ اِنَاثًا١ؕ اِنَّكُمْ لَتَقُوْلُوْنَ قَوْلًا عَظِیْمًا۠ع﴿40﴾
- اَفَاَصْفٰىكُمْکیا تمہیں چن لیا
- رَبُّكُمْتمہارا رب
- بِالْبَنِيْنَبیٹوں کے لیے
- وَاتَّخَذَاور بنا لیا
- مِنَسے۔ کو
- الْمَلٰٓئِكَةِفرشتے
- اِنَاثًابیٹیاں
- اِنَّكُمْبیشک تم
- لَتَقُوْلُوْنَالبتہ کہتے ہو (بولتے ہو)
- قَوْلًا عَظِيْمًابڑا بول
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
(مشرکو!) کیا تمہارے پروردگار نے تم کو لڑکے دیئے اور خود فرشتوں کو بیٹیاں بنایا۔ کچھ شک نہیں کہ (یہ) تم بڑی (نامعقول بات) کہتے ہو
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
مجرمانہ سوچ پر تبصرہ
ملعون مشرکوں کی تردید ہو رہی ہے کہ یہ تم نے خوب تقسیم کی ہے کہ بیٹے تمہارے اور بیٹیاں اللہ کی۔ جو تمہیں ناپسند جن سے تم جلو کڑھو۔ بلکہ زندہ درگور کردو انہیں اللہ کے لئے ثابت کرو۔ اور آیتوں میں بھی ان کا یہ کمینہ پن بیان ہوا ہے کہ یہ کہتے ہیں رب رحمان کی اولاد ہے حقیقتا انکا یہ قول نہایت ہی برا ہے بہت ممکن ہے کہ اس سے آسمان پھٹ جائے، زمین شق ہوجائے، پہاڑ چورا چورا ہوجائیں کہ یہ اللہ رحمان کی اولاد ٹھہرا رہے ہیں حالانکہ اللہ کو یہ کسی طرح لائق ہی نہیں۔ زمین و آسمان کی کل مخلوق اس کی غلام ہے۔ سب اس کے شمار میں ہیں اور گنتی میں اور ایک ایک اس کے سامنے قیامت کے دن تنہا پیش ہونے والا ہے۔