تفسیر ابنِ کثیر

Tafseer Ibn-e-Kaseer · 17. Al-Israa · Ayah 25

  1. رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا فِیْ نُفُوْسِكُمْ١ؕ اِنْ تَكُوْنُوْا صٰلِحِیْنَ فَاِنَّهٗ كَانَ لِلْاَوَّابِیْنَ غَفُوْرًا﴿25﴾

    1. رَبُّكُمْتمہارا رب
    2. اَعْلَمُخوب جانتا ہے
    3. بِمَاجو
    4. فِيْ نُفُوْسِكُمْتمہارے دلوں میں
    5. اِنْاگر
    6. تَكُوْنُوْاتم ہوگے
    7. صٰلِحِيْنَنیک (جمع)
    8. فَاِنَّهٗتو بیشک وہ
    9. كَانَہے
    10. لِلْاَوَّابِيْنَرجوع کرنیوالوں کے لیے
    11. غَفُوْرًابخشنے والا
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے تمہارا پروردگار اس سے بخوبی واقف ہے۔ اگر تم نیک ہوگے تو وہ رجوع لانے والوں کو بخش دینے والا ہے
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
گناہ اور استغفار اس سے مراد وہ لوگ ہیں، جن سے جلدی میں اپنے ماں باپ کے ساتھ کوئی ایسی بات ہوجاتی ہے جسے وہ اپنے نزدیک عیب کی اور گناہ کی بات نہیں سمجھتے ہیں چونکہ ان کی نیت بخیر ہوتی ہے، اس لیے اللہ ان پر رحمت کرتا ہے جو ماں باپ کا فرمانبردار نمازی ہو اس کی خطائیں اللہ کے ہاں معاف ہیں۔ کہتے ہیں کہ اوابین وہ لوگ ہیں جو مغرب عشا کی درمیان نوافل پڑھیں۔ بعض کہتے ہیں جو صبح کی نماز ادا کرتے رہیں جو ہر گناہ کے بعد توبہ کرلیا کریں۔ جو جلدی سے بھلائی کی طرف لوٹ آیا کریں۔ تنہائی میں اپنے گناہوں کو یاد کر کے خلوص دل سے استغفار کرلیا کریں۔ عبید کہتے ہیں جو برابر ہر مجلس سے اٹھتے ہوئے یہ دعا پڑھ لیا کریں۔ دعا (اللہم اغفرلی ما اصبت فی مجلسی ھذا) ابن دریر فرماتے ہیں اولیٰ قول یہ ہے کہ جو گناہ سے توبہ کرلیا کریں۔ معصیت سے طاعت کی طرف آ جایا کریں۔ اللہ کی ناپسندیدگی کے کاموں کو ترک کر کے اس کے اس کی رضا مندی اور پسندیدگی کے کام کرنے لگیں۔ یہی قول بہت ٹھیک ہے کیونکہ لفظ اواب مشتق ہے اوب سے اور اس کے معنی رجوع کرنے کے ہیں جیسے عرب کہتے ہیں اب فلان اور جیسے قرآن میں ہے آیت (اِنَّ اِلَيْنَآ اِيَابَهُمْ 25؀ۙ) 88۔ الغاشية :25) ان کا لوٹنا ہماری ہی طرف ہے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ جب سفر سے لوٹتے تو فرماتے دعا (ائبون تائبون عابدون لربنا حامدون) لوٹنے والے توبہ کرنے والے عبادتیں کرنے والے اپنے رب کی ہی تعریفیں کرنے والے۔