تفسیر ابنِ کثیر

Tafseer Ibn-e-Kaseer · 17. Al-Israa · Ayah 22

  1. لَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتَقْعُدَ مَذْمُوْمًا مَّخْذُوْلًا۠ع﴿22﴾

    1. لَا تَجْعَلْتو نہ ٹھہرا
    2. مَعَ اللّٰهِاللہ کے ساتھ
    3. اِلٰهًا اٰخَرَکوئی دوسرا معبود
    4. فَتَقْعُدَپس تو بیٹھ رہے گا
    5. مَذْمُوْمًامذمت کیا ہوا
    6. مَّخْذُوْلًابےبس ہو کر
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
اور خدا کے ساتھ کوئی اور معبود نہ بنانا کہ ملامتیں سن کر اور بےکس ہو کر بیٹھے رہ جاؤ گے
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
فاقہ اور انسان یہ خطاب ہر ایک مکلف سے ہے۔ آپ کی تمام امت کو حق تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرو۔ اگر ایسا کرو گے تو ذلیل ہوجاؤ گے اللہ کی مدد ہٹ جائے گی۔ جس کی عبادت کرو گے اسی کے سپرد کر دئے جاؤ گے اور یہ ظاہر ہے کہ اللہ کے سوا کوئی نفع نقصان کا مالک نہیں وہ واحد لا شریک ہے۔ مسند احمد میں رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جسے فاقہ پہنچے اور وہ لوگوں سے اسے بند کروانا چاہے اس کا فاقہ بند نہ ہوگا اور جو اللہ سے اس کی بابت دعا کرے اللہ اس کے پاس تونگری بھیج دے گا یا تو جلدی یا دیر سے۔ یہ حدیث ابو داؤد و ترمذی میں ہے۔ ترمذی ؒ اسے حسن صحیح غریب بتلاتے ہیں۔