تفسیر ابنِ کثیر

Tafseer Ibn-e-Kaseer · 16. An-Nahl · Ayah 118

  1. وَ عَلَى الَّذِیْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا مَا قَصَصْنَا عَلَیْكَ مِنْ قَبْلُ١ۚ وَ مَا ظَلَمْنٰهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ﴿118﴾

    1. وَاور
    2. عَلَيپر
    3. الَّذِيْنَ هَادُوْاجو لوگ یہودی ہوئے (یہودی)
    4. حَرَّمْنَاہم نے حرام کیا
    5. مَا قَصَصْنَاجو ہم نے بیان کیا
    6. عَلَيْكَتم پر (سے)
    7. مِنْ قَبْلُاس سے قبل
    8. وَاور
    9. مَا ظَلَمْنٰهُمْنہیں ہم نے ظلم کیا ان پر
    10. وَلٰكِنْبلکہ
    11. كَانُوْٓاوہ تھے
    12. اَنْفُسَهُمْاپنے اوپر
    13. يَظْلِمُوْنَظلم کرتے
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
اور چیزیں ہم تم سے پہلے بیان کرچکے ہیں وہ ہم نے یہودیوں پر حرام کردی تھیں۔ اور ہم نے ان پر کچھ ظلم نہیں کیا بلکہ وہی اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
دوسروں سے منسوب ہر چیز حرام ہے اوپر بیان گزرا کہ اس امت پر مردار، خون، لحم، خنزیر اور اللہ کے سوا دوسروں کے نام سے منسوب کردہ چیزیں حرام ہیں۔ پھر جو رخصت اس بارے میں تھی اسے ظاہر فرما کر جو آسانی اس امت پر کی گئی ہے اسے بیان فرمایا۔ یہودیوں پر ان کی شریعت میں جو حرام تھا اور جو تنگ اور حرج ان پر تھا اسے بیان فرما رہا ہے کہ ہم نے ان کی حرمت کی چیزوں کو پہلے ہی سے تجھے بتادیا ہے۔ سورة انعام کی آیت (وَعَلَي الَّذِيْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا مَا قَصَصْنَا عَلَيْكَ مِنْ قَبْلُ ۚ وَمَا ظَلَمْنٰهُمْ وَلٰكِنْ كَانُوْٓا اَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُوْنَ01108) 16۔ النحل :118) میں ان حرام چیزوں کا ذکر ہوچکا ہے۔ یعنی یہودیوں پر ہم نے تمام ناخن والے جانوروں کو حرام کردیا تھا اور گائے اور بکری کی چربی کو سوائے اس چربی کے جو ان کی پیٹھ پر لگی ہو یا انتڑیوں پر یا ہڈیوں سے ملی ہوئی ہو، یہ بدلہ تھا ان کی سرکشی کا ہم اپنے فرمان میں بالکل سچے ہیں۔ ہم نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا تھا ہاں وہ خود ناانصاف تھے۔ ان کے ظلم کی وجہ سے ہم نے وہ پاکیزہ چیزیں جو ان پر حلال تھیں، حرام کردیں دوسری وجہ ان کا راہ حق سے اوروں کو روکنا بھی تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے اس رحم و کرم کی خبر دیتا ہے جو وہ گنہگار مومنوں کے ساتھ کرتا ہے کہ ادھر اس نے توبہ کی، ادھر رحمت کی گود اس کے لئے پھیل گئی۔ بعض سلف کا قول ہے کہ جو اللہ کی نافرمانی کرتا ہے وہ جاہل ہی ہوتا ہے۔ توبہ کہتے ہیں گناہ سے ہٹ جانے کو اور اصلاح کہتے ہیں اطاعت پر کمر کس لینے کو پس جو ایسا کرے اس کے گناہ اور اس کی لغزش کے بعد بھی اللہ اسے بخش دیتا ہے اور اس پر رحم فرماتا ہے۔