تفسیر ابنِ کثیر

Tafseer Ibn-e-Kaseer · 16. An-Nahl · Ayah 110

  1. ثُمَّ اِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِیْنَ هَاجَرُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا فُتِنُوْا ثُمَّ جٰهَدُوْا وَ صَبَرُوْۤا١ۙ اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ع﴿110﴾

    1. ثُمَّپھر
    2. اِنَّبیشک
    3. رَبَّكَتمہارا رب
    4. لِلَّذِيْنَان لوگوں کے لیے
    5. هَاجَرُوْاانہوں نے ہجرت کی
    6. مِنْۢ بَعْدِاس کے بعد
    7. مَاکہ
    8. فُتِنُوْاستائے گئے وہ
    9. ثُمَّپھر
    10. جٰهَدُوْاانہوں نے جہاد کیا
    11. وَصَبَرُوْٓااور انہوں نے صبر کیا
    12. اِنَّبیشک
    13. رَبَّكَتمہارا رب
    14. مِنْۢ بَعْدِهَااس کے بعد
    15. لَغَفُوْرٌالبتہ بخشنے والا
    16. رَّحِيْمٌنہایت مہربان
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
پھر جن لوگوں نے ایذائیں اٹھانے کے بعد ترک وطن کیا۔ پھر جہاد کئے اور ثابت قدم رہے تمہارا پروردگار ان کو بےشک ان (آزمائشوں) کے بعد بخشنے والا (اور ان پر) رحمت کرنے والا ہے
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
صبر و استقامت یہ دوسری قسم کے لوگ ہیں جو بوجہ اپنی کمزوری اور مسکینی کے مشرکین کے ظلم کے شکار تھے اور ہر وقت ستائے جاتے تھے آخر انہوں نے ہجرت کی۔ مال، اولاد، ملک، وطن چھوڑ کر اللہ کی راہ میں چل کھڑے ہوئے اور مسلمانوں کی جماعت میں مل کر پھر جہاد کے لئے نکل پڑے اور صبر و استقامت سے اللہ کے کلمے کی بلندی میں مشغول ہوگئے، انہیں اللہ تعالیٰ ان کاموں یعنی قبولیت فتنہ کے بعد بھی بخشنے والا اور ان پر مہربانیاں کرنے والا ہے۔ روز قیامت ہر شخص اپنی نجات کی فکر میں لگا ہوگا، کوئی نہ ہوگا جو اپنی ماں یا باپ یا بھائی یا بیوی کی طرف سے کچھ کہہ سن سکے اس دن ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ ملے گا۔ کسی پر کوئی ظلم نہ ہوگا۔ نہ ثواب گھٹے نہ گناہ بڑھے۔ اللہ ظلم سے پاک ہے۔