تفسیر ابنِ کثیر

Tafseer Ibn-e-Kaseer · 13. Ar-Ra'd · Ayah 15

  1. وَ لِلّٰهِ یَسْجُدُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ طَوْعًا وَّ كَرْهًا وَّ ظِلٰلُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِ۩۩﴿15﴾

    1. وَلِلّٰهِاور اللہ ہی کو
    2. يَسْجُدُسجدہ کرتا ہے
    3. مَنْجو
    4. فِيمیں
    5. السَّمٰوٰتِآسمانوں
    6. وَالْاَرْضِاور زمین
    7. طَوْعًاخوشی سے
    8. وَّكَرْهًایا ناخوشی سے
    9. وَّظِلٰلُهُمْاور ان کے سائے
    10. بِالْغُدُوِّصبح
    11. وَالْاٰصَالِاور شام
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
اور جتنی مخلوقات آسمانوں اور زمین میں ہے خوشی سے یا زبردستی سے خدا کے آگے سجدہ کرتی ہے اور ان کے سائے بھی صبح وشام (سجدے کرتے ہیں)
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
عظمت وسطوت الہٰی اللہ تعالیٰ اپنی عظمت و سلطنت کو بیان فرما رہا ہے کہ ہر چیز اس کے سامنے پست ہے اور ہر ایک اس کی سرکار میں اپنی عاجزی کا اظہار کرتی ہے۔ مومن خوشی سے اور کافر بزور اس کے سامنے سجدہ میں ہے۔ ان کی پرچھائیں صبح شام اس کے سامنے جھکتی رہتی ہے۔ اصال جمع ہے اصیل کی۔ اور آیت میں بھی اس کا بیان ہوا ہے۔ فرمان ہے آیت (اَوَلَمْ يَرَوْا اِلٰى مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَيْءٍ يَّتَفَيَّؤُا ظِلٰلُهٗ عَنِ الْيَمِيْنِ وَالشَّمَاۗىِٕلِ سُجَّدًا لِّلّٰهِ وَهُمْ دٰخِرُوْنَ 48؀) 16۔ النحل :48) یعنی کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ تمام مخلوق اللہ کے سامنے دائیں بائیں جھک کر اللہ کو سجدہ کرتے ہیں اور اپنی عاجزی کا اظہار کرتے ہیں۔