تفسیر ابنِ کثیر

Tafseer Ibn-e-Kaseer · 13. Ar-Ra'd · Ayah 14

  1. لَهٗ دَعْوَةُ الْحَقِّ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَسْتَجِیْبُوْنَ لَهُمْ بِشَیْءٍ اِلَّا كَبَاسِطِ كَفَّیْهِ اِلَى الْمَآءِ لِیَبْلُغَ فَاهُ وَ مَا هُوَ بِبَالِغِهٖ١ؕ وَ مَا دُعَآءُ الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ﴿14﴾

    1. لَهٗاس کو
    2. دَعْوَةُپکارنا
    3. الْحَقِّحق
    4. وَالَّذِيْنَاور جن کو
    5. يَدْعُوْنَوہ پکارتے ہیں
    6. مِنْ دُوْنِهٖاس کے سوا
    7. لَا يَسْتَجِيْبُوْنَوہ جواب نہیں دیتے
    8. لَهُمْان کو
    9. بِشَيْءٍکچھ بھی
    10. اِلَّامگر
    11. كَبَاسِطِجیسے پھیلا دے
    12. كَفَّيْهِاپنی ہتھیلیاں
    13. اِلَى الْمَآءِپانی کی طرف
    14. لِيَبْلُغَتاکہ پہنچ جائے
    15. فَاهُاس کے منہ تک
    16. وَمَااور نہیں
    17. هُوَوہ
    18. بِبَالِغِهٖاس تک پہنچنے والا
    19. وَمَااور نہیں
    20. دُعَآءُپکار
    21. الْكٰفِرِيْنَکافر (جمع)
    22. اِلَّاسوائے
    23. فِيْمیں
    24. ضَلٰلٍگمراہی
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
سودمند پکارنا تو اسی کا ہے اور جن کو یہ لوگ اس کے سوا پکارتے ہیں وہ ان کی پکار کو کسی طرح قبول نہیں کرتے مگر اس شخص کی طرح جو اپنے دونوں ہاتھ پانی کی طرف پھیلا دے تاکہ (دور ہی سے) اس کے منہ تک آ پہنچے حالانکہ وہ (اس تک کبھی بھی) نہیں آسکتا اور (اسی طرح) کافروں کی پکار بیکار ہے
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
دعوت حق حضرت علی بن ابو طالب ؓ فرماتے ہیں اللہ کے لئے دعوت حق ہے، اس سے مراد توحید ہے۔ محمد بن منکدر کہتے ہیں مراد لا الہ الا اللہ ہے۔ پھر مشرکوں کافروں کی مثال بیان ہوئی کہ جیسے کوئی شخص پانی کی طرف ہاتھ پھیلائے ہوئے ہو کہ اس کے منہ میں خود بخود پہنچ جائے تو ایسا نہیں ہونے کا۔ اسی طرح یہ کفار جنہیں پکارتے ہیں اور جن سے امیدیں رکھتے ہیں، وہ ان کی امیدیں پوری نہیں کرنے کے۔ اور یہ مطلب بھی ہے کہ جیسے کوئی اپنی مٹھیوں میں پانی بند کرلے تو وہ رہنے کا نہیں۔ پس باسط قابض کے معنی میں ہے۔ عربی شعر میں بھی قابض ماء آیا ہے پس جیسے پانی مٹھی میں روکنے والا اور جیسے پانی کی طرف ہاتھ پھیلانے والا پانی سے محروم ہے، ایسے ہی یہ مشرک اللہ کے سوا دوسروں کو گو پکاریں لیکن رہیں گے محروم ہی دین دنیا کا کوئی فائدہ انہیں نہ پہنچے گا۔ ان کی پکار بےسود ہے۔