تفسیر ابنِ کثیر
Tafseer Ibn-e-Kaseer · 11. Hud · Ayah 35
اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُهٗ فَعَلَیَّ اِجْرَامِیْ وَ اَنَا بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُجْرِمُوْنَ۠ع﴿35﴾
- اَمْکیا
- يَقُوْلُوْنَوہ کہتے ہیں
- افْتَرٰىهُبنا لایا ہے اس کو
- قُلْکہ دیں
- اِنِ افْتَرَيْتُهٗاگر میں نے اسے بنا لیا ہے
- فَعَلَيَّتو مجھ پر
- اِجْرَامِيْمیرا گناہ
- وَاَنَااور میں
- بَرِيْٓءٌبری
- مِّمَّااس سے جو
- تُجْرِمُوْنَتم گناہ کرتے ہو
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
کیا یہ کہتے ہیں کہ اس (پیغمبر) نے یہ قرآن اپنے دل سے بنا لیا ہے۔ کہہ دو کہ اگر میں نے دل سے بنالیا ہے تو میرے گناہ کا وبال مجھ پر اور جو گناہ تم کرتے ہو اس سے میں بری الذمہ ہوں
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
کفار کا الزام اور رسول اللہ ﷺ کا جواب
یہ درمیانی کلام اس قصے کے بیچ میں اس کی تائید اور تقریر ہے کہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے آخری رسول ﷺ سے فرماتا ہے کہ یہ کفار تجھ پر اس قرآن کے از خود گھڑ لینے کا الزام لگا رہے ہیں تو جواب دے کہ اگر ایسا ہے تو میرا گناہ مجھ پر ہے میں جانتا ہوں کہ اللہ کے عذاب کیسے کچھ ہیں ؟ پھر کیسے ممکن ہے کہ میں اللہ پر جھوٹ افتراء گھڑ لوں ؟ ہاں اپنے گناہوں کے ذمے دار تم آپ ہو۔