تفسیر ابنِ کثیر

Tafseer Ibn-e-Kaseer · 11. Hud · Ayah 120

  1. وَ كُلًّا نَّقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهٖ فُؤَادَكَ١ۚ وَ جَآءَكَ فِیْ هٰذِهِ الْحَقُّ وَ مَوْعِظَةٌ وَّ ذِكْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَ﴿120﴾

    1. وَكُلًّااور ہر بات
    2. نَّقُصُّہم بیان کرتے ہیں
    3. عَلَيْكَتجھ پر
    4. مِنْسے
    5. اَنْۢبَآءِخبریں (احوال)
    6. الرُّسُلِرسول (جمع)
    7. مَا نُثَبِّتُکہ ہم ثابت کریں (تسلی دیں)
    8. بِهٖاس سے
    9. فُؤَادَكَتیرا دل
    10. وَجَآءَكَاور تیرے پاس آیا
    11. فِيْمیں
    12. هٰذِهِاس
    13. الْحَقُّحق
    14. وَمَوْعِظَةٌاور نصیحت
    15. وَّذِكْرٰياور یاد دہانی
    16. لِلْمُؤْمِنِيْنَمومنوں کے لیے
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
(اے محمدﷺ) اور پیغمبروں کے وہ سب حالات جو ہم تم سے بیان کرتے ہیں ان سے ہم تمہارے دل کو قائم رکھتے ہیں۔ اور ان (قصص) میں تمہارے پاس حق پہنچ گیا اور یہ مومنوں کے لیے نصیحت اور عبرت ہے
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
ذکر ماضی تمہارے لیے سامان سکون پہلی امتوں کا اپنے نبیوں کو جھٹلانا، نبیوں کا ان کی ایذاؤں پر صبر کرنا۔ آخر اللہ کے عذاب کا آنا، کافروں کا برباد ہونا، نبیوں رسولوں اور مومنوں کا نجات پانا، یہ سب واقعات ہم تجھے سنا رہے ہیں۔ تاکہ تیرے دل کو ہم اور مضبوط کردیں اور تجھے کامل سکون حاصل ہوجائے۔ اس سورت میں بھی حق تجھ پر واضح ہوچکا ہے کہ اس دنیا میں بھی تیرے سامنے سچے واقعات بیان ہوچکے ہیں۔ یہ عبرت ہے کفار کے لیے اور نصیحت ہے مومنوں کے لیے کہ وہ اس سے نفع حاصل کریں۔