Tafseer-e-Baghwi - Al-Hijr : 29
قِیْلَ ادْخُلُوْۤا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِیْنَ
قِيْلَ : کہا جائے گا ادْخُلُوْٓا : تم داخل ہو اَبْوَابَ : دروازے جَهَنَّمَ : جہنم خٰلِدِيْنَ : ہمیشہ رہنے کو فِيْهَا ۚ : اس میں فَبِئْسَ : سو برا ہے مَثْوَى : ٹھکانا الْمُتَكَبِّرِيْنَ : تکبر کرنے والے
جب اسکو (صورت انسانیہ میں) درست کرلوں اور اس میں اپنی (بےبہا چیز یعنی) روح پھونک دوں تو اس کے آگے سجدے میں گرپڑنا۔
29۔” فاذا سویتہ “ جب میں اس کو پورا بنا لوں اور جان ڈال لوں ۔ ” فنفخت فیہ من روحی “ تو وہ زندہ انسان بن جائے ، روح وہ جسم لطیف ہے جس سے انسان زندہ ہوتا ہے ، روح کی اضافت اپنی تشریف کے لیے کی ۔ ” فقعوالہ سجدین “ اس سے مراد تحیہ والا سجدہ مراد ہے، عبادت والا سجدہ مراد نہیں۔
Top