Tafseer-Ibne-Abbas - Al-Israa : 87
اَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ اٰنَآءَ الَّیْلِ سَاجِدًا وَّ قَآئِمًا یَّحْذَرُ الْاٰخِرَةَ وَ یَرْجُوْا رَحْمَةَ رَبِّهٖ١ؕ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ١ؕ اِنَّمَا یَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ۠   ۧ
اَمَّنْ : یا جو هُوَ : وہ قَانِتٌ : عبادت کرنے والا اٰنَآءَ الَّيْلِ : گھڑیوں میں رات کی سَاجِدًا : سجدہ کرنے والا وَّقَآئِمًا : اور قیام کرنے والا يَّحْذَرُ : وہ ڈرتا ہے الْاٰخِرَةَ : آخرت وَيَرْجُوْا : اور امید رکھتا ہے رَحْمَةَ : رحمت رَبِّهٖ ۭ : اپنا رب قُلْ : فرما دیں هَلْ : کیا يَسْتَوِي : برابر ہیں الَّذِيْنَ : وہ لوگ جو يَعْلَمُوْنَ : وہ علم رکھتے ہیں وَالَّذِيْنَ : اور وہ لوگ لَا يَعْلَمُوْنَ ۭ : جو علم نہیں رکھتے ہیں اِنَّمَا : اس کے سوا نہیں يَتَذَكَّرُ : نصیحت قبول کرتے ہیں اُولُوا الْاَلْبَابِ : عقل والے
اے مخاطب اللہ کے ساتھ کسی دوسرے کو معبود نہ بنانا، ورنہ تو مذمت کیا جانے والا، بےیارو مددگار ہو کر بیٹھ رہے گا
آخر میں شرک اور اصحاب شرک کی مذمت فرمائی اور توحید اختیار کرنے اور توحید پر جمنے کا حکم فرمایا، ارشاد ہے (لَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰہِ اِلٰھًا اٰخَرَ ) (اے مخاطب تو اللہ کے ساتھ کسی کو بھی معبود مت بنا) (فَتَقْعُدَ مَذْمُوْمًا مَّخْذُوْلًا) (ورنہ تو اس حال میں بیٹھ رہے گا کہ تو مذموم ہوگا اور مخذول ہوگا) یعنی قیامت کے دن بدحال لوگوں میں شمار ہوگا اور وہاں کوئی یار و مددگار نہ ہوگا توحید کو چھوڑنے کی وجہ سے وہاں کی عاجزی، بےبسی اور بےکسی اور بدحالی سامنے آجائے گی۔
Top