Madarik-ut-Tanzil - Nooh : 23
اِنْ تَجْتَنِبُوْا كَبَآئِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ نُدْخِلْكُمْ مُّدْخَلًا كَرِیْمًا
اِنْ : اگر تَجْتَنِبُوْا : تم بچتے رہو كَبَآئِرَ : بڑے گناہ مَا تُنْهَوْنَ : جو منع کیے گئے عَنْهُ : اس سے نُكَفِّرْ : ہم دور کردیں گے عَنْكُمْ : تم سے سَيِّاٰتِكُمْ : تمہارے چھوٹے گناہ وَنُدْخِلْكُمْ : اور ہم تمہیں داخل کردیں گے مُّدْخَلًا : مقام كَرِيْمًا : عزت
اور بہکا دیا بہتوں کو اور تو نہ زیادہ کرنا بےانصافوں کو مگر بھٹکنا
(آیت) وَلَا تَزِدِ الظّٰلِمِيْنَ اِلَّا ضَلٰلًا یعنی ان ظالموں کی گمراہی اور بڑھا دیجئے یہاں یہ شبہ نہ کیا جائے کہ انبیاء (علیہم السلام) کا فرض منصبی قوم کو ہدایت کرنے کا ہے۔ نوح ؑ نے ان کی گمراہی کی بد دعا کیسے کی کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ نوح ؑ کو اللہ تعالیٰ نے اس کی تو خبر دے دیتھی کہ اب ان میں کوئی مسلمان نہیں ہوگا اس لئے ان کا گمراہی اور کفر پر مرنا تو یقینی تھا حضرت نوح ؑ نے ان کی گمرایہ بڑھا دینے کی دعا اس لئے فرمائی کہ جلد ان کا پیمانہ لبریز ہوجائے اور ہلاک کردیئے جائیں۔
Top