Tadabbur-e-Quran - Al-Baqara : 4
اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰلَةَ بِالْهُدٰى١۪ فَمَا رَبِحَتْ تِّجَارَتُهُمْ وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ
أُولَٰئِکَ : یہی لوگ الَّذِينَ : جنہوں نے اشْتَرَوُا : خرید لی الضَّلَالَةَ : گمراہی بِالْهُدَىٰ : ہدایت کے بدلے فَمَا رَبِحَتْ : کوئی فائدہ نہ دیا تِجَارَتُهُمْ : ان کی تجارت نے وَمَا کَانُوا : اور نہ تھے مُهْتَدِينَ : وہ ہدایت پانے والے
جو (کوئی) شخص خدا تعالیٰ کا دشمن ہو اور فرشتوں کا (ہو) اور پیغمبروں کا (ہو) اور جبریل کا (ہو) اور میکائیل کا (ہو) تو اللہ تعالیٰ دشمن ہے ایسے کافروں کا۔ (ف 3) (98)
3۔ بعض یہود نے حضور ﷺ سے یہ سن کر جبرائیل (علیہ السلام) وحی لاتے ہیں کہا کہ ان سے تو ہماری عداوت ہے احکام شاقہ اور واقعات ہائلہ ان ہی کے ہاتھوں آیا کہتے ہیں میکائیل خوب ہیں کہ بارش اور رزق ان سے متعلق ہے اگر وہ وحی لایا کرتے تو ہم مان لیتے اس آیت میں اسی کا رد ہے۔
Top