بصیرتِ قرآن
Baseerat-e-Quran · 4. An-Nisaa · Ayah 87
اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ لَیَجْمَعَنَّكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ وَ مَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰهِ حَدِیْثًا۠ع﴿87﴾
- اَللّٰهُاللہ
- لَآنہیں
- اِلٰهَعبادت کے لائق
- اِلَّا ھُوَاس کے سوا
- لَيَجْمَعَنَّكُمْوہ تمہیں ضرور اکٹھا کرے گا
- اِلٰىطرف
- يَوْمِ الْقِيٰمَةِروز قیامت
- لَا رَيْبَنہیں شک
- فِيْهِاس میں
- وَمَنْاور کون
- اَصْدَقُزیادہ سچا
- مِنَ اللّٰهِاللہ سے
- حَدِيْثًابات میں
Translation · Baseerat-e-Quran
اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے وہ انہیں قیامت کے دن میں ضرور جمع کرے گا جس کے ہونے میں شک نہیں ہے اور اللہ سے بڑھ کر اور کس کی بات سچی ہوسکتی ہے۔
Tafseer · Baseerat-e-Quran
آیت نمبر 87
لغات القرآن : لیجمعنکم ، البتہ وہ ضرور تمہیں جمع کرے گا ۔ اصدق، زیادہ سچا۔ حدیث، بات ۔
تشریح : کافروں اور منافقوں کو اس بات میں سراسر شک تھا کہ قیامت آئے گی یا نہیں۔ انہیں اس بات پر بھی شک تھا کہ یہ کیسے ہوگا کہ تمام انسانوں کو جمع کرکے ان سے حساب کتاب لیا جائے گا۔ اور پھر انہیں جنت یا جہنم میں بھیج دیا جائے گا۔ اس آیت میں ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ قیامت کا دن ایک ایسا یقینی دن ہے جس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ یہ بات اس ذات کی طرف سے ہے جس کا قول سب سے سچا قول ہوتا ہے۔ ہر شخص قیامت آنے کے بعد اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہوگا اور پھر اسے اپنی زندگی کے ایک ایک لمحہ کا حساب دینا ہوگا۔ اس دن صرف وہی لوگ کامیاب و با مراد ہوں گے جنہوں نے اللہ کے احکامات پر یقین کرتے ہوئے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی ہوگی۔ لیکن وہ لوگ جنہوں نے کفر کی روش اختیار کی ہوگی وہ دن ان کے لئے بڑا ہی حسرت ناک ہوگا اور پھر وہ اس کا کچھ بھی مداوا نہ کرسکیں گے۔