Tafseer-e-Usmani - Az-Zumar : 22
اَفَمَنْ یَّتَّقِیْ بِوَجْهِهٖ سُوْٓءَ الْعَذَابِ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ قِیْلَ لِلظّٰلِمِیْنَ ذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ
اَفَمَنْ : کیا۔ پس۔ جو يَّتَّقِيْ : بچاتا ہے بِوَجْهِهٖ : اپنا چہرہ سُوْٓءَ الْعَذَابِ : برے عذاب سے يَوْمَ الْقِيٰمَةِ ۭ : قیامت کے دن وَقِيْلَ : اور کہا جائے گا لِلظّٰلِمِيْنَ : ظالموں کو ذُوْقُوْا : تم چکھو مَا : جو كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ : تم کماتے (کرتے) تھے
بھلا جس کا سینہ کھول دیا اللہ نے دین اسلام کے واسطے سو وہ روشنی میں ہے اپنے رب کی طرف سے، سو خرابی ہے ان کو جن کے دل سخت ہیں اللہ کی یاد سے وہ پڑے پھرتے ہیں بھٹکتے صریح8
8  یعنی دونوں برابر کہاں ہوسکتے ہیں ایک وہ جس کا سینہ اللہ نے قبول اسلام کے لیے کھول دیا۔ نہ اسے اسلام کے حق ہونے میں کچھ شک و شبہ ہے نہ احکام اسلام کی تسلیم سے انقباض۔ حق تعالیٰ نے اس کو توفیق و بصیرت کی ایک عجیب روشنی عطا فرمائی۔ جس کے اجالے میں نہایت سکون و اطمینان کے ساتھ اللہ کے راستہ پر اڑا چلا جا رہا ہے۔ دوسرا وہ بدبخت جس کا دل پتھر کی طرح سخت ہو، نہ کوئی نصیحت اس پر اثر کرے نہ خیر کا کوئی قطرہ اس کے اندر گھسے، کبھی خدا کی یاد کی توفیق نہ ہو۔ یوں ہی اوہام واہوا، اور رسوم و تقلید آباء کی اندھیریوں میں بھٹکتا پھرے۔
Top