Mutaliya-e-Quran - An-Nisaa : 29
بِاَكْوَابٍ وَّ اَبَارِیْقَ١ۙ۬ وَ كَاْسٍ مِّنْ مَّعِیْنٍۙ
بِاَكْوَابٍ : ساتھ پیالوں کے وَّاَبَارِيْقَ : اور ساتھ جگ کے وَكَاْسٍ : اور ساغر مِّنْ مَّعِيْنٍ : بہتی شراب کے
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، آپس میں ایک دوسرے کے مال باطل طریقوں سے نہ کھاؤ، لین دین ہونا چاہیے آپس کی رضامندی سے اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو یقین مانو کہ اللہ تمہارے اوپر مہربان ہے
[ یٰٓــاَیـُّـہَا الَّذِیْنَ : اے لوگو جو ] [ اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [ لاَ تَاْکُلُوْآ : تم لوگ مت کھائو ] [ اَمْوَالَــکُمْ : تمہارے مال ] [ بَیْنَـکُمْ : آپس میں ] [ بِالْبَاطِلِ : ناحق ] [ اِلَّآ اَنْ : سوائے اس کے کہ ] [ تَــکُوْنَ : وہ ہو ] [ تِجَارَۃً : کوئی تجارت ] [ عَنْ تَرَاضٍ : باہمی رضامندی سے ] [ مِّنْکُمْ : تم لوگوں میں ] [ وَلاَ تَقْتُلُوْآ : اور مت قتل کرو ] [ اَنْفُسَکُمْ : اپنوں کو ] [ اِنَّ اللّٰہَ : یقینا اللہ ] [ کَانَ : ہے ] [ بِکُمْ : تم پر ] [ رَحِیْمًا : رحم کرنے والا ] ترکیب : ” تَـکُوْنَ “ کا اسم اس میں شامل ” ھِیَ “ کی ضمیر ہے جو ” اَمْوَالَ “ کے لیے ہے۔ ” تِجَارَۃً “ اس کی خبر ہے۔ ” یَفْعَلْ “ کا مفعول ” ذٰلِکَ “ ہے۔ ” عُدْوَانًا “ اور ” ظُلْمًا “ حال ہیں۔ ” نُدْخِلْ “ کا مفعول ” کُمْ “ کی ضمیر ہے۔ ” مُدْخَلًا “ ظرف ہے اور ” کَرِیْمًا “ اس کی صفت ہے۔ ” نَصِیْبٌ“ مبتدأ مؤخر نکرہ ہے ‘ اس کی خبر محذوف ہے اور ” لِلرِّجَالِ “ قائم مقام خبر مقدم ہے۔
Top