Mafhoom-ul-Quran - An-Nisaa : 29
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَرِثُوا النِّسَآءَ كَرْهًا١ؕ وَ لَا تَعْضُلُوْهُنَّ لِتَذْهَبُوْا بِبَعْضِ مَاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ اِلَّاۤ اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍ١ۚ وَ عَاشِرُوْهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١ۚ فَاِنْ كَرِهْتُمُوْهُنَّ فَعَسٰۤى اَنْ تَكْرَهُوْا شَیْئًا وَّ یَجْعَلَ اللّٰهُ فِیْهِ خَیْرًا كَثِیْرًا
يٰٓاَيُّھَا : اے الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا : جو لوگ ایمان لائے (ایمان والے) لَا يَحِلُّ : حلال نہیں لَكُمْ : تمہارے لیے اَنْ تَرِثُوا : کہ وارث بن جاؤ النِّسَآءَ : عورتیں كَرْهًا : زبردستی وَلَا : اور نہ تَعْضُلُوْھُنَّ : انہیں روکے رکھو لِتَذْهَبُوْا : کہ لے لو بِبَعْضِ : کچھ مَآ : جو اٰتَيْتُمُوْھُنَّ : ان کو دیا ہو اِلَّآ : مگر اَنْ : یہ کہ يَّاْتِيْنَ : مرتکب ہوں بِفَاحِشَةٍ : بےحیائی مُّبَيِّنَةٍ : کھلی ہوئی وَعَاشِرُوْھُنَّ : اور ان سے گزران کرو بِالْمَعْرُوْفِ : دستور کے مطابق فَاِنْ : پھر اگر كَرِھْتُمُوْھُنَّ : وہ ناپسند ہوں فَعَسٰٓى : تو ممکن ہے اَنْ تَكْرَهُوْا : کہ تم کو ناپسند ہو شَيْئًا : ایک چیز وَّيَجْعَلَ : اور رکھے اللّٰهُ : اللہ فِيْهِ : اس میں خَيْرًا : بھلائی كَثِيْرًا : بہت
اے مومنو ! تم آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق نہ کھاؤ مگر اس وقت کہ لین دین تجارت کا ہو بعد رضا مندی ایک دوسرے کے تم میں سے (تو کوئی مضائقہ نہیں) اور اپنی جانیں قتل نہ کرو ، بیشک خدا تم پر بڑا مہربان ہے
ان آیتوں میں انسان کی کمائی کا ذکر فرمایا کہ سود ، چوری خیانت وغیرہ یہ سب مال کے ناحق طور پر کمانے کے طریقے ہیں اور ان میں ہر ایک طریقہ کی جدا جدا ممانعت کی بڑی تفصیل سے شریعت کے احکام ہیں۔ اس کے بعد جائز اور حق طور پر کمائی کے طریقے خریدو فروخت کو مستثنیٰ فرما کر ذکر فرمایا خریدو فروخت کی بہت سی مختلف صورتیں ہیں، ہر ایک صورت کا شریعت میں جدا جدا حکم ہے جو فرمایا : نہ خون کرو آپس میں اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ لوگوں کا مال ناحق کھا کر اپنی جاں ہلاکت میں نہ ڈالو۔ اللہ کا تم پر رحم ہے ۔ کا یہ مطلب ہے کہ پچھلی امتوں کی توبہ ان کا قتل کرنا قرار پائی تھی اور تم پر ایسا سخت حکم نازل نہیں کیا جاتا۔ اور جو کوئی یہ کام کرے زور اور ظلم سے تو ہم اس کو ڈالیں گے آگ میں اور یہ اللہ پر آسان ہے۔ اس کا مطلب یہ کہ جو کوئی شخص خود کشی کرے گا اس پر جنت حرام ہوجائے گی ، اور اس کو ہمیشہ دوزخ میں رہنا پڑے گا ۔ آگے کی آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ کبیرہ گناہوں سے بچتے رہیں گے ، اگر ان سے کچھ صغیرہ گناہ ہوجائیں گے تو نیک عملوں کے طفیل سے وہ صغیرہ گناہ خود بخود معاف ہوجائیں گے ۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص نماز ، روزہ اور ادائے زکوٰۃ کا پابند ہوگا اور سات کبیرہ گناہوں سے بچے گا وہ جنت میں جاوے گا۔ اس وقگت تک حج فرض نہیں ہوا تھا اس لئے حج کا ذکر نہیں فرمایا۔ اب حج بھی دین کا ایک رکن ہے ۔ سات کبیرہ گناہوں کی تفصیل یہ ہے : (1) شرک ، (2) قتل ناحق۔ (3) جادو کرنا۔ (4) سود کھانا۔ (5) یتیم کا مال کھانا۔ (6) جہاد سے بھاگنا۔ (7) پارسا عوتوں پر بدکاری کی تہمت لگانا۔
Top