Tafseer-e-Jalalain - An-Nisaa : 28
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ١۫ وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمْ رَحِیْمًا
يٰٓاَيُّھَا : اے الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا : جو لوگ ایمان لائے (مومن) لَا تَاْكُلُوْٓا : نہ کھاؤ اَمْوَالَكُمْ : اپنے مال بَيْنَكُمْ : آپس میں بِالْبَاطِلِ : ناحق اِلَّآ : مگر اَنْ تَكُوْنَ : یہ کہ ہو تِجَارَةً : کوئی تجارت عَنْ تَرَاضٍ : آپس کی خوشی سے مِّنْكُمْ : تم سے َلَا تَقْتُلُوْٓا : اور نہ قتل کرو اَنْفُسَكُمْ : اپنے نفس (ایکدوسرے) اِنَّ : بیشک اللّٰهَ : اللہ كَانَ : ہے بِكُمْ : تم پر رَحِيْمًا : بہت مہربان
خدا چاہتا ہے کہ تم پر سے بوجھ ہلکا کرے اور انسان (طبعا) کمزور پیدا ہوا ہے
یریداللّٰہ ان یخفف عنکم، یعنی اللہ تعالیٰ تمہاری تکلیف ومشقت کے پیش نظر تمہارے لئے ہلکے احکام کا ارادہ فرماتے ہیں اسی لئے نکاح کے بارے میں ایسے نرم احکام دیئے ہیں جن پر عمل کرنا آسان ہو انسان چونکہ خلقی طور پر ضعیف ہے، اسلئے کہ نفس، خواہش شہوت اسکے اندرخلقتہً موجود ہے، اسی کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے انسان کیلئے آسانیاں رکھی ہیں۔ طرفین کی رضامندی سے طے کرنے کا اختیاردیدیا، اور ضرورت کے وقت ایک سے زائدعورتوں سے نکاح کی بھی اجازت دیدی بشرطیہ کہ دامن عدل ہاتھ سے نہ چھوٹے۔
Top