Al-Quran-al-Kareem - Al-Israa : 3
اَوْ یَكُوْنَ لَكَ بَیْتٌ مِّنْ زُخْرُفٍ اَوْ تَرْقٰى فِی السَّمَآءِ١ؕ وَ لَنْ نُّؤْمِنَ لِرُقِیِّكَ حَتّٰى تُنَزِّلَ عَلَیْنَا كِتٰبًا نَّقْرَؤُهٗ١ؕ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّیْ هَلْ كُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا۠   ۧ
اَوْ : یا يَكُوْنَ : ہو لَكَ : تیرے لیے بَيْتٌ : ایک گھر مِّنْ : سے۔ کا زُخْرُفٍ : سونا اَوْ : یا تَرْقٰى : تو چڑھ جائے فِي السَّمَآءِ : آسمانوں میں وَلَنْ نُّؤْمِنَ : اور ہم ہرگز نہ مانیں گے لِرُقِيِّكَ : تیرے چڑھنے کو حَتّٰى : یہانتک کہ تُنَزِّلَ : تو اتارے عَلَيْنَا : ہم پر كِتٰبًا : ایک کتاب نَّقْرَؤُهٗ : ہم پڑھ لیں جسے قُلْ : آپ کہ دیں سُبْحَانَ : پاک ہے رَبِّيْ : میرا رب هَلْ كُنْتُ : نہیں ہوں میں اِلَّا : مگر۔ صرف بَشَرًا : ایک بشر رَّسُوْلًا : رسول
اے ان لوگوں کی اولاد جنھیں ہم نے نوح کے ساتھ سوار کیا ! بیشک وہ بہت شکر گزار بندہ تھا۔
ذُرِّيَّــةَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ۔۔ :”ذُرِّيَّــةَ“ سے پہلے ”یَا“ حرف ندا محذوف ہے، ”اے ان لوگوں کی اولاد۔۔ !“ یعنی تم ان صالح لوگوں کی اولاد ہو جنھیں ہم نے نوح ؑ کے ساتھ کشتی میں سوار کرکے نجات بخشی۔ مقصد بنی اسرائیل کو ایمان اور عمل صالح پر ابھارنا ہے کہ دیکھو تم کن لوگوں کی اولاد ہو، تمہارے لیے اپنے صالح آبا و اجداد کے نقش قدم پر چل کر ایک اللہ کی عبادت کا پابند رہنا، اپنے باپ نوح ؑ کی طرح ہر وقت اسی کا شکر گزار رہنا اور اس کے سوا کسی کو اپنا وکیل، کارساز اور بھروسے کے قابل نہ سمجھنا لازم ہے۔
Top