Tafseer-al-Kitaab - Al-Baqara : 31
وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا طٰٓئِرٍ یَّطِیْرُ بِجَنَاحَیْهِ اِلَّاۤ اُمَمٌ اَمْثَالُكُمْ١ؕ مَا فَرَّطْنَا فِی الْكِتٰبِ مِنْ شَیْءٍ ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ یُحْشَرُوْنَ
وَمَا : اور نہیں مِنْ : کوئی دَآبَّةٍ : چلنے والا فِي الْاَرْضِ : زمین میں وَ : اور لَا : نہ طٰٓئِرٍ : پرندہ يَّطِيْرُ : اڑتا ہے بِجَنَاحَيْهِ : اپنے دو پروں سے اِلَّآ : مگر اُمَمٌ : امتیں (جماعتیں اَمْثَالُكُمْ : تمہاری طرح مَا فَرَّطْنَا : نہیں چھوڑی ہم نے فِي الْكِتٰبِ : کتاب میں مِنْ : کوئی شَيْءٍ : چیز ثُمَّ : پھر اِلٰى : طرف رَبِّهِمْ : اپنا رب يُحْشَرُوْنَ : جمع کیے جائیں گے
(اس کے بعد اللہ نے) آدم کو سب (چیزوں) کے نام بتا دیئے پھر ان (چیزوں) کو فرشتوں کے سامنے پیش کر کے فرمایا '' ہم کو ان (چیزوں) کے نام بتاؤ اگر تم (اپنے دعوے میں) سچے ہو ''۔
[27] اشیاء کا علم انسان کو ان کے ناموں کے ذریعہ سے حاصل ہوتا ہے۔ آدم کو سب چیزوں کے نام بتانا گویا ان کو تمام اشیاء کا علم دینا تھا۔
Top