Aasan Quran - Al-An'aam : 41
قُلْ هَلُمَّ شُهَدَآءَكُمُ الَّذِیْنَ یَشْهَدُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ حَرَّمَ هٰذَا١ۚ فَاِنْ شَهِدُوْا فَلَا تَشْهَدْ مَعَهُمْ١ۚ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ وَ هُمْ بِرَبِّهِمْ یَعْدِلُوْنَ۠   ۧ
قُلْ : فرمادیں هَلُمَّ : تم لاؤ شُهَدَآءَكُمُ : اپنے گواہ الَّذِيْنَ : جو يَشْهَدُوْنَ : گواہی دیں اَنَّ : کہ اللّٰهَ : اللہ حَرَّمَ : حرام کیا ھٰذَا : یہ فَاِنْ : پھر اگر شَهِدُوْا : وہ گواہی دیں فَلَا تَشْهَدْ : تو تم گواہی نہ دینا مَعَهُمْ : ان کے ساتھ وَلَا تَتَّبِعْ : اور نہ پیروی کرنا اَهْوَآءَ : خواہشات الَّذِيْنَ : جو لوگ كَذَّبُوْا : جھٹلایا بِاٰيٰتِنَا : ہماری آیتوں کو وَالَّذِيْنَ : اور جو لوگ لَا يُؤْمِنُوْنَ : نہیں ایمان لاتے بِالْاٰخِرَةِ : آخرت پر وَهُمْ : اور وہ بِرَبِّهِمْ : اپنے رب کے برابر يَعْدِلُوْنَ : ٹھہراتے ہیں
(نہیں) بلکہ (مصیبت کے وقت تم) اسی کو پکارتے ہو تو جس دکھ کے لئے اسے پکارتے ہو وہ اگر چاہتا ہے تو اس کو دور کردیتا ہے اور جن کو تم شریک بناتے ہو (اس وقت) انھیں بھول جاتے ہو
اس مصیبت میں تو اسی کو پکارتے ہو پھر کیوں بھاگتے ہو : آیت 41 : بَلْ اِیَّاہُ تَدْعُوْنَ بلکہ تم اسی کو ہی خالص پکارتے ہو۔ اپنے آلہہ کو چھوڑ کرفَیَکْشِفُ مَا تَدْعُوْنَ اِلَــیْہِ یعنی جس کو تم پکارتے ہو اس مصیبت کے ازالہ کے لیے۔ اِنْ شَآئَاگر وہ تم پر اپنا فضل فرمانے کا ارادہ رکھتے ہوں۔ وَتَنْسَوْنَ مَا تُشْرِکُوْنَتم اپنے معبودوں کو چھوڑ دیتے ہو۔ یا تم اس وقت اپنے معبودوں کا تذکرہ تک نہیں کرتے۔ کیونکہ تمہارے ذہن تمہارے رب کی یاد میں ڈھکے ہوتے ہیں۔ اس لیے کہ وہی نقصان کو دور کرنے کی قدرت رکھتے ہیں۔ اور کوئی نہیں۔ اور یہ بھی درست ہے کہ استخبار، اغیر اللّٰہ تدعون کے متعلق ہو۔ پھر مطلب اس طرح ہوگا ارایتکم اغیر اللّٰہ تدعون ان اتاکم عذاب اللّٰہ۔ تمہارا کیا خیال ہے کہ تم غیر اللہ کو پکارو گے اگر تم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب اتر پڑے ؟
Top