Madarik-ut-Tanzil - Al-Israa : 101
وَ لَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ اِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَ الْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰٓئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُوْلًا
وَلَا تَقْفُ : اور پیچھے نہ پڑ تو مَا لَيْسَ : جس کا نہیں لَكَ : تیرے لیے۔ تجھے بِهٖ : اس کا عِلْمٌ : علم اِنَّ : بیشک السَّمْعَ : کان وَالْبَصَرَ : اور آنکھ وَالْفُؤَادَ : اور دل كُلُّ : ہر ایک اُولٰٓئِكَ : یہ كَانَ : ہے عَنْهُ : اس سے مَسْئُوْلًا : پرسش کیا جانے والا
اور ہم نے موسیٰ کو نو کھلی کھلی نشانیاں دی تھیں۔ (53) اب بنو اسرائیل سے پوچھ لو کہ جب وہ ان لوگوں کے پاس گئے تو فرعون نے ان سے کہا کہ : اے موسیٰ ! تمہارے بارے میں میرا تو خیال یہ ہے کہ کسی نے تم پر جادو کردیا ہے۔
53: ایک صحیح حدیث میں ان نو نشانیوں کی تفسیر خود آنحضرت ﷺ نے یہ بیان فرمائی ہے کہ یہ نو احکام تھے : شرک نہ کرو، چوری نہ کرو، زنا نہ کرو، کسی کو ناحق قتل نہ کرو، کسی پر جھوٹا الزام لگا کر اسے قتل یا سزا کے لئے پیش نہ کرو، جادو نہ کرو، سود نہ کھاؤ، پاک دامن عورتوں پر بہتان نہ باندھو، اور جہاد میں پیٹھ دکھاکر نہ بھاگو۔ (ابو داؤد، نسائی، ابن ماجہ
Top