محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم
سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ کا اسلام لانا
قریش مکہ عداوت نبوی صلی اللہ علیہ و سلم میں دیوانے ہو رہے تھے‘ ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کوہ صفا پر یا اس کے دامن میں بیٹھے تھے‘ کہ ابوجہل اس طرف کو آ نکلا اس نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو دیکھ کر اول تو بہت سخت و سست اور ناپسندیدہ الفاظ کہے‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے جب اس کی بیہودہ سرائی کا کوئی جواب نہ دیا تو اس نے ایک پتھر اٹھا کر مارا جس سے آپ صلی اللہ علیہ و سلم زخمی ہوئے اور خون بہنے لگا‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم خاموش اپنے گھر چلے آئے‘ ابوجہل صحن کعبہ میں جہاں لوگ بیٹھے ہوئے باتیں کر رہے تھے آ بیٹھا۔
سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ بن عبدالمطلب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے چچا تھے ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے بہت محبت تھی مگروہ ابھی تک شرک پر قائم اور مشرکوں کے شریک حال تھے ان کی عادت تھی کہ تیر کمان لے کر صبح جنگل کی طرف نکل جاتے‘ دن بھر شکار مارتے اور شکار کی تلاش میں مصروف رہتے‘ شام کو واپس آ کر اول خانہ کعبہ کا طواف کرتے پھر اپنے گھر جاتے‘ وہ حسب معمول جب شکار سے واپس آئے تو اول راستے ہی میں ابوجہل کی لونڈی ملی‘ اس نے ابوجہل کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو گالیاں دینا اور پتھر مارنا اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا صبر و شکر کے ساتھ خاموش رہنا سب بیان کر دیا۔
سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے چچا ہونے کے علاوہ رضاعی بھائی بھی تھے خون اور دودھ کے جوش نے ان کو از خود رفتہ کر دیا وہ اول خانہ کعبہ میں گئے وہاں طواف سے فارغ ہو کر سیدھے اس مجمع کی طرف متوجہ ہوئے جہاں ابوجہل بیٹھا ہوا باتیں کر رہا تھا۔ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ بہت بڑے پہلوان‘ جنگ جو اور عرب کے مشہور بہادروں میں شمار ہوتے تھے‘ انہوں نے جاتے ہی ابوجہل کے سر پر اس زور سے کمان ماری کہ اس کا سر پھٹ گیا اور خون بہنے لگا‘ پھر کہا کہ میں بھی محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے دین پر ہوں اور وہی کہتا ہوں جو وہ کہتا ہے‘ اگر تجھ میں کچھ ہمت ہے تو اب میرے سامنے بول ‘ ابوجہل کے ساتھیوں کو غصہ آیا اور وہ اس کی حمایت میں اٹھے‘ مگر ابوجہل سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی بہادری سے اس قدر متاثر اور مرعوب تھا کہ اس نے خود ہی اپنے حمائیتیوں کو بھی یہ کہہ کر روک دیا کہ واقعی مجھ ہی سے زیادتی ہو گئی تھی‘ ۱؎ ا گر حمزہ رضی اللہ عنہ مجھ سے اپنے بھتیجے کا انتقام نہ لیتے تو بے حمیت شمار ہوتے‘ غالباً ابوجہل کو سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ کا کلام سن کر یہ اندیشہ بھی پیدا ہو گیا تھا کہ کہیں یہ اس طیش و غضب کی وجہ سے ضد میں آ کر مسلمان ہی نہ ہو جائیں‘ اور اسی لیے اس نے ایسی بات سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کو سنانے کے لیے کہی کہ بات یہیں ختم ہو کر رہ جائے اور حمزہ رضی اللہ عنہ اسلام کی طرف متوجہ نہ ہو سکیں۔
سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ ابوجہل کی مزاج پرسی کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آئے اور کہا کہ ’’بھتیجے تم یہ سن کر خوش ہو گے کہ میں نے ابوجہل سے تمہارا بدلہ لے لیا۔‘‘
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ چچا! میں ایسی باتوں سے خوش نہیں ہوا کرتا ہاں اگر آپ مسلمان ہو جائیں تو مجھ کو بڑی خوشی حاصل ہو۔‘‘ یہ سن کر سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ نے اسی وقت اسلام قبول کر لیا‘ سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ کے مسلمان ہونے سے مسلمانوں کی آفت رسیدہ جمعیت کو بڑی قوت اور امداد حاصل ہوئی۔
یہ نبوت کے چھٹے سال کا واقعہ ہے‘ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم دار ارقم میں تھے‘ قریش مکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی شان میں بہت ہی گستاخ اور بے باک ہو گئے تھے‘ اب سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے مسلمان ہونے نے ان کو کسی قدر محتاط اور مؤدب بنا دیا اور لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی شان میں گستاخیاں کرنے میں کچھ تامل کرنے لگے۔