محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم
جعفر بن رضی اللہ عنہ ابوطالب کی تقریر دل پذیر!
’’اے بادشاہ! ہم لوگ جاہل تھے‘ بت پرست تھے‘ مردہ خوار تھے‘ بدکار تھے‘ قطع رحمی اور پڑوسیوں سے بدمعاملگی کرتے تھے‘ ہم میں جو طاقت ور ہوتا تھا وہ کمزور کا حق دبا لیتا تھا‘ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ہم میں ایک رسول صلی اللہ علیہ و سلم بھیجا جس کے حسب و نسب اور صدق و امانت سے ہم سب واقف تھے اس نے ہم کو مؤحد بنا کر بت پرستی سے روکا‘ راست گفتاری ‘ امانت اور صلہ رحمی کا حکم دیا‘ ہمسایوں کے ساتھ نیک برتائو کی تعلیم دی بدکاری دروغ گوئی اور یتیموں کا مال کھانے سے منع کیا‘ قتل و غارت سے باز کیا اور عبادت الہی کا حکم دیا‘ ہم اس رسول صلی اللہ علیہ و سلم پر ایمان لائے اور اس کی فرمانبردای کی اس لیے ہماری قوم ہم سے ناراض ہو گئی‘ ہم کو انواع و اقسام کی اذیتیں پہنچائیں یہاں تک کہ ہم مجبور ہو کر اپنے وطن سے نکل آئے اور آپ کے ملک میں پناہ گزیں ہوئے‘ ہم کو یقین ہے کہ آپ کے ملک میں ہم کو ستایا نہ جائے گا۔‘‘
نجاشی نے یہ تقریر سن کر کہا کہ تمہارے رسول صلی اللہ علیہ و سلم پر اللہ تعالیٰ کا جو کلام نازل ہوا ہے اس میں سے کچھ سنائو‘ چنانچہ سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نے سورہ مریم کی تلاوت شروع کی قرآن کریم کی آیات سن کر نجاشی اور تمام درباریوں کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے‘ جب سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ سورہ مریم کی ابتدائی آیات تلاوت فرما چکے تو نجاشی نے کہا اس کلام میں وہی رنگ ہے جو سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی توریت میں ہے یہ دونوں ایک ہی سے کلام معلوم ہوتے ہیں۔
قریش کے ایلچیوں نے کہا کہ یہ لوگ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے بھی مخالف ہیں‘ اس بات کے کہنے سے ان کا یہ مدعا تھا کہ نجاشی شاہ حبش جو عیسائی ہے مسلمانوں سے ناراض ہو جائے گا‘ سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے فوراً جواب دیا کہ ہرگز نہیں بلکہ ھوعبداللہورسولہوکلمتہالقاھاالیمریموروحمنہ۱؎نجاشی نے کہا تمہارا یہ عقیدہ بالکل درست ہے‘ انجیل کا بھی یہی مفہوم ہے‘ نجاشی نے قریش کے ایلچیوں کو ناکام واپس کر دیا اور کہہ دیا کہ میں ان لوگوں کو ہرگز تمہارے سپرد نہ کروں گا‘ ساتھ ہی نجاشی نے قریش کے تمام تحفے اور ہدایا واپس کر دئیے جس سے ان کی اور بھی تذلیل ہوئی‘ ۲؎یہ واقعہ نبوت کے چھٹے سال کا ہے‘ قریش کو جب نجاشی کے دربار میں بھی ناکامی ہوئی تو ان کی دشمنی مسلمانوں کے ساتھ اور بھی زیادہ بڑھ گئی۔