محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم
ابوطالب کی خدمت میں قریش کا وفد
جب عتبہ کی کوشش ناکام ثابت ہوئی تو عتبہ شیبہ‘ ابوالبختری‘ اسود‘ ولید‘ ابوجہل وغیرہ اشخاص کا ایک وفد ابوطالب کی خدمت میں پہنچا اور شکایت کی کہ تمہارا بھتیجا ہمارے بتوں کو برا کہنے سے باز نہیں آنا چاہتا تم اس کو سمجھائو اور اس حرکت سے باز رکھو۔
ابوطالب نے اس وفد کو معقول جواب دئیے اور ان کو توجہ دلائی کہ تم لوگ بھی ایذا سانیوں میں حد سے بڑھے جاتے ہو۔۲؎ اس روز تو یہ لوگ ابوطالب کے پاس سے اٹھ کرچلے آئے لیکن دوسرے روز مشورہ کر کے پھر پہنچے۔ ان کے آنے پر ابوطالب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو اپنے مکان پر ان کے سامنے بلوایا اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی موجودگی میں گفتگو شروع ہو گئی‘ قریش کے سرداروں نے وہی باتیں اس مجلس میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے پھر پیش کیں جو اس سے پہلے عتبہ تنہا حاضر ہو کر پیش کرچکا تھا‘ انہوں نے کہا کہ :
اے محمد صلی اللہ علیہ و سلم ہم نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو اس وقت بعض ضروری باتوں کے لیے بلوایا ہے‘ واللہ کوئی شخص اپنی قوم پر اتنی مشکلات نہیں لایا ہو گا جس قدر مشکلات میں تم نے قوم کو مبتلا کردیا ہے‘ اگر تم اپنے اس نئے دین کے ذریعہ مال و دولت جمع کرنا چاہتے ہو تو ہم اتنا مال جمع کئے دیتے ہیں کہ کسی دوسرے کے پاس نہ نکلے۔ اگر شرف و عزت کی خواہش ہے تو ہم ابھی تم کو اپنا سردار تسلیم کئے لیتے ہیں‘ اگر حکومت و سلطنت کی خواہش ہے تو تم کو ملک عرب کا بادشاہ بنانے کے لیے تیار ہیں‘ اگر تم کو کوئی جن یا آسیب دکھائی دیتا ہے اور اس کے اثر سے تم ایسی ایسی باتیں کرتے ہو تو ہم اپنے کاہنوں اور حکیموں کے ذریعے علاج کرانے کو تیار ہیں۔۳؎
آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ باتیں سن کر جواباً قرآن کریم کی چند آیات تلاوت فرمائیں اور کہا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ کو تمہاری طرف اپنا رسول بنا کر بھجا ہے‘ میں نے اللہ تعالیٰ کے احکام تم کو پہنچا دئیے ہیں‘ اگر تم میری تعلیمات کو قبول کر لو گے تو تمہارے لیے دین و دنیا کی بہتری کا موجب ہو گا‘ اگر انکار پر اصرار کرو گے تو میں اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار کروں گا کہ تمہارے لیے کیا حکم صادر فرماتا ہے۔
یہ سن کر کفار نے کہا کہ اچھا اگر تم اللہ تعالیٰ کے رسول ہو تو ان پہاڑوں کو ملک عرب سے ہٹا دو‘ اور ریگستان کو سر سبز بنا دو‘ ہمارے باپ دادا کو زندہ کر دو اور ان میں قصی بن کلاب کو ضرور زندہ کرو‘ اگر قصی بن کلاب نے زندہ ہو کر تم کو سچا مان لیا اور تمہاری رسالت کو قبول کر لیا تو ہم بھی تم کو رسول اللہ تسلیم کر لیں گے۔
آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ میں ان کاموں کے لیے رسول نہیں بنایا میرا کام یہ ہے کہ تم کو اللہ تعالیٰ تعالیٰ کے احکام جو مجھ پر نازل ہوتے ہیں سنادوں اوراچھی طرح سمجھا دوں ‘ میں اپنے اختیار سے خود کچھ نہیں کر سکتا‘ اس قسم کی باتیں ہونے کے بعد سردارن قریش ناراض اور برا فروختہ ہو کر اٹھے اور ابوطالب کو بھی مقابلہ اور مخالفت کے لیے چیلنج دے کر چل دئیے۔
سردارن قریش کے چلے جانے کے بعد ابوطالب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے کہا کہ بھتیجے! میں بوڑھا ہو گیا ہوں اور اپنے اندر قریش کے مقابلہ کی طاقت نہیں پاتا تم مجھے ایسی محنت میں مبتلا نہ کرو جو میری طاقت و استطاعت سے بڑھ کر ہو‘ مناسب یہ ہے کہ تم اپنے دین کا اعلان اور بتوں کی علانیہ برائیاں بیان کرنا ترک کر دو۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ سن کر فرمایا کہ چچا اگر میرے داہنے ہاتھ پر سورج اور بائیں ہاتھ پر چاند رکھ دیں تب بھی میں اپنے کام سے باز نہیں رہ سکتا۔
ابوطالب کی باتوں سے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو یہ شبہ گذرا کہ اب یہ میری حمایت سے دست بردار ہونا چاہتے ہیں‘ ابوطالب سردارن مکہ میں سب سے زیادہ عزت و جاہت رکھتے اور قبیلہ بنی ہاشم کے مسلمہ سردار سمجھے جاتے تھے‘ ان کی وجہ سے مخالفین آپ صلی اللہ علیہ و سلم پر حملہ کرتے ہوئے ججھکتے تھے اور ان کو خطرہ تھا کہ اگر بنو ہاشم سب کے سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی امداد پر اٹھ کھڑے ہوئے تو معاملہ بہت ہی نازک ہو جائے گا۔ لہذا ابوطالب کی حمایت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو بہت کچھ تقویت حاصل تھی‘ اب یہ مایوسانہ باتیں سن کر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا دل بھر آیا پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم یہ کہہ کر ابوطالب کے پاس سے چشم پر آب اٹھے اور چل دیے کہ ’’چچا! میں اپنے کام کو اس وقت تک نہیں چھوڑوں گا جب تک کہ اللہ تعالیٰ کا کام پورا نہ ہو جائے‘ یا یہی کام کرتے ہوئے میں ہلاک نہ ہو جائوں۔‘‘
ابوطالب پر اس کا بہت اثر ہوا‘ اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو پھر واپس بلا کر کہا کہ اچھا تم ضرور اپنے کام میں مصروف رہو‘ جب تک میرے دم میں دم ہے میں تمہاری حمایت سے باز نہ رہوں گا‘ تم کو کبھی دشمنوں کے سپرد نہ کروں گا۔ ۱؎