محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم
صاف جواب
قریش نے جمع ہو کر مشورہ کیا اور عتبہ بن ربیعہ کو اپنی طرف سے پیغام دے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس بھیجا۔ عتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آیا اور بڑی نرمی کے ساتھ کہنے لگا :
’’محمد صلی اللہ علیہ و سلم ‘‘ تم شریف ہو‘ تمہارا خاندان بھی شریف و معزز ہے‘ مگر تم نے قوم کے اندر فتنہ ڈال رکھا ہے‘ ۱؎یہ بتائو کہ آخر تمہارا مقصد کیا ہے؟ اگر تم کو مال و دولت کی خواہش ہے تو ہم تمہارے واسطے اس قدر مال جمع کئے دیتے ہیں کہ تم سب سے زیادہ مال دار ہو جائو گے‘ اگر تم کو حکومت اور سرداری کی خواہش ہے تو ہم سب تم کو اپنا سردار بنا لینے اور تمہاری حکمت تسلیم کرنے کو تیار ہیں‘ اگر تم کو شادی کرنی منظور ہے تو ہم سب سے اعلیٰ گھرانے کی سب سے زیادہ حسین لڑکی سے تمہاری شادی کرائے دیتے ہیں اوراگر ان سب چیزوں کی خواہش ہے تو یہ سب تمہارے لیے فراہم کئے دیتے ہیں‘ تم اپنا دلی منشا صاف صاف بیان کر دو ہم تمہاری ہر خواہش پوری کرنے کو تیار ہیں۔‘‘
عتبہ جب اپنی تقریر ختم کر چکا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے جواباً سورہ حم سجدہ تلاوت فرمانی شروع کی‘ جب آپ صلی اللہ علیہ و سلم اس آیت پر پہنچے کہ {فَاِِنْ اَعْرَضُوْا فَقُلْ اَنذَرْتُکُمْ صَاعِقَۃً مِّثْلَ صَاعِقَۃِ عَادٍ وَّثَمُوْدَ} ۲؎ تو عتبہ کا رنگ فق ہو گیا‘ اور اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور کہا کہ ایسا نہ کہو‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے سجدہ کیا اور سجدہ سے فارغ ہو کر کہا کہ تم نے میرا جواب سن لیا۔
عتبہ وہاں سے اٹھا اور قریش کے پاس آ کر کہا کہ یہ میری رائے ہے کہ اس شخص کو اس کے حال پر چھوڑ دو اور تم بالکل غیر جانبدار ہو جائو‘ اگریہ ملک عرب پر غالب آ گیا تو چونکہ یہ تمہارا بھائی ہے اس کی کامیابی تمہاری کامیابی ہو گی اور اگر یہ تباہ ہو گیا تو تم سستے چھوٹ جائو گے‘یہ سن کر قریش نے عتبہ سے کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے تم پر بھی جادو کر دیا ہے‘ عتبہ نے کہا جو تمہارا جی چاہے کرو اور کہو میں نے اپنی رائے کا اظہار کر دیا۔۱؎